کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 319
کی ہے اور وہ ان کو (بہشت کے) ان باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے خوش ہیں۔ یہی لوگ اللہ کے لشکر والے ہیں۔ سن رکھو اللہ کے لشکر والے ہی (آخر کار) کامیاب ہونگے۔ ‘‘[1] اور اہل السنۃ والجماعۃ سلفی جماعت حقہ کے اہل ایمان اس بات کی رائے رکھتے ہیں کہ :اللہ عزوجل کے لیے ہی دوستی و محبت کے کچھ حقوق ہیں کہ جن کے لیے واجب ہے انہیں پایۂ ثبوت تک پہنچایا جائے۔ اور وہ درج ذیل ہیں : پہلاحق:اللہ عزوجل ہی کے لیے محبت اور دوستی کا پہلا حق یہ ہے کہ کافروں کے ملک سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے ملک کی طرف ہجرت کر لی جائے۔ البتہ اس میں کمزور لوگ مستثنیٰ ہیں اور ایسے مسلمان بھی کہ جو شرعی وجوہات کی بنا پر ہجرت کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔ دوسرا حق :مسلمانوں کی (سیاسی طور پر) بھرپور مدد کرنا اور ان کی افرادی
[1] یہ آیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں نازل ہوئی ۔ چنانچہ حدیث و سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ جنگ ِ بدر میں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کو قتل کیا۔ جنگِ احد میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے عبدالرحمن کے مقابلے میں نکلے ۔ حضرت معصب رضی اللہ عنہ بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو ، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حمزہ رضی اللہ عنہ ، اور عبیدہ رضی اللہ عنہ بن حارث نے عتبہ ،شیبہ اور ولید بن عتبہ کو ( جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے) قتل کیا۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ نے جو مخلص مسلمان تھے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ’’ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو میں اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں ۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔ الغرض ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ و رسول کے مقابلہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں تک کی پرواہ نہ کی۔ یہ بات ان کے مناقب میں سنہری حروف میں لکھی جانے کی ہے۔ ( ابن کثیر و قرطبی)