کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 308
’’مسلمان مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے (یعنی کافروں سے دوستی جوڑے گا) تو اس کو اللہ سے کچھ تعلق نہیں رہا۔ (کیونکہ کافر اللہ کے دشمن ہیں اور ان سے دوستی کرنا اللہ سے دشمنی کرنا ہے) مگر ہاں ! جب ایسے امر کا ڈر ہو کہ جس سے بچنا ضروری ہو۔ اور اللہ عزوجل اپنی ذات مقدس سے تم کو ڈراتا ہے تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف ہی پھر کر جانا ہے۔‘‘ [1] اور ایک مقام پر اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے : ’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا پیغمبر ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں (یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم) وہ کافروں پر سخت ہیں جبکہ آپس میں (ایک دوسرے پر) رحم دل ہیں۔ (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے (کبھی) رکوع کر رہے ہیں ، (کبھی) سجدہ کر رہے ہیں۔ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی فکر میں رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر (نمایاں) ہے یعنی سجدے کی نشانی۔ ان کا یہ حال تورات شریف میں بیان ہوا ہے اور انجیل شریف میں بھی ان کی مثال ایک کھیتی کی سی بیان کی گئی ہے، جس نے زمین سے پٹھا نکالا۔ پھر اس کو
[1] اس آیت میں کفار کے ساتھ موالات اور دوستی رکھنے سے منع فرمایا ہے اور اس پر سخت وعید سنائی ہے۔ صرف بچاؤ اور تدبیر سلطنت کی حد تک ظاہری طور پر اظہار موالاۃ کی اجازت دی ہے بشرطیکہ یہ اظہار دل میں نفرت کے ساتھ ہو۔ سیّدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں تقیہ صرف زبان سے اظہار کی حد تک جائز ہے نہ کہ عمل سے۔ نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض یہودی رؤسا نے انصار کے ایک گروہ سے تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کسی موقع پر ہم ان کو دین اسلام سے پھیرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) دراصل یہ اور اس مفہوم کی دوسری آیات اسلامی حکومت کی خارجہ پالیسی وضع کرنے میں اصل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ المائدہ کی آیت ۵۱ …۵۶ اور مسئلہ تقیّہ کی تفصیل کے لیے سورۃ نحل آیت ۱۰۶ ملاحظہ فرمائیں ۔