کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 307
عقیدہ میں سے ایک اور اصل:اللہ کے لیے محبت اور اللہ عزوجل ہی کی خاطر بغض و عداوت…ہوا کرتا ہے۔ یعنی اہل ایمان واسلام سے دوستی اور محبت اور مشرکین وکفار سے بغض وعداوت اور ان سے بیزاری کا اظہار۔ چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی قدرہے:
﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ إِنَّ اللّٰهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ (التوبہ:۷۱)
’’اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے مدد گار ہیں۔ وہ اچھی بات سکھلاتے ہیں اور بری بات سے منع کرتے ہیں۔ اور نماز کو درستی کے ساتھ (وقت پر جماعت سے) ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہا مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ زبردست ہے، حکمت والا۔‘‘ [1]
دوسرے مقام پر اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی قدر ہے :
﴿لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرُ﴾ (آل عمران:۲۸)
[1] جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَلْمُوْمِنُ لِلْمُوْمِنِ کَا لْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا ۔ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کی بعض اینٹیں بعض کو سہارا دیتی ہیں ۔‘‘ دوسری حدیث میں ہے: مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّھِمْ وَ تَرَاحِمِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ إِذَا اشْتَکٰی عَنْہُ عَضْوٌ تَدَ اعیٰ لَہُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِا لْحُمَّی وَالسَّھْرِ۔ آپس کی محبت ، ہمدردی اور شفقت میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جس کے اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو بقیہ سارے اعضاء بخار اور بے چینی کی صورت میں اس کا ساتھ دیتے ہیں ۔ ( ابن کثیر )