کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 303
وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ﴾ (آل عمران:۱۴۵)
’’اور کوئی بھی شخص تب تک مر نہیں سکتا جب تک کہ اللہ کا حکم نہ ہو۔ اس نے لکھ رکھا ہے مقرر وقت پر (موت کو)۔ اور جو کوئی دنیا میں (اپنے نیک اعمال) کا بدلہ چاہے تو ہم اسی میں سے اس کو دیں گے۔ اور جو کوئی آخرت کا ثواب چاہے تو اس کو اسی میں سے دیں گے۔ اور شکر کرنے والوں کو ہم جلد بدلہ دیں گے۔ ‘‘
اور اہل السنۃ والجماعۃ سلفی جماعت حقہ کے اہل ایمان و اسلام اس بات کا بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ :اہل ایمان کے لیے اللہ عزوجل کی طرف سے جنت کا وعدہ اور نافرمان اہل توحید کو سزا دینے کی وعید ، اور کفار و منافقین کو جہنم میں داخل کرکے عذاب دینے کا وعدہ بھی حق ہے۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے گنہگار اہل توحید کے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل توحید (اہل السنۃ والجماعۃ سلفی جماعت حقہ کے اہل ایمان) کے ساتھ بخشش کا وعدہ کر رکھا ہے جبکہ اپنے فرامین میں ان کے علاوہ وہ دیگر تمام لوگوں (تمام کفار و مشرکین ، مبتدعین اور تمام گمراہ فرقوں) کو معاف کر نے سے انکار کر رکھا ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں :
ا…﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾ (النساء:۱۱۶)
’’بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشے گا (جو کوئی مشرک مرا اس کی مغفرت نہ ہوگی) اور اس سے کم (درجہ کے گناہوں کو) جس کو چاہے بخش دے گا۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ پرلے سرے کا گمراہ ہو گیا۔ ‘‘[1]
ب…﴿وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا ﴿١١٩﴾
[1] معلوم ہوا کہ مشرک کے سوا مسلمان گہنگار ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے۔ اس سے ان لوگوں کا رد نکلتا ہے جو مرتکب کبیرہ کو دائمی جہنمی کہتے ہیں ۔ (قرطبی) اوپر سے منافقوں کا ذکر آرہا ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو پسند نہ کرتے اور جدا راستے پر چلتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشتا، معلوم ہوا کہ اسلام ے سوا کسی دوسرے دین (طریقہ) کو محبوب رکھا جائے اور اس کو معمول بنایا جائے تو یہ شرک ہے ۔ کیونکہ اسلام کے سوا جو دین بھی ہے سب شرک ہے اگرچہ پرستش کاشرک نہ بھی کیا جائے ۔ (ازموضح القرآن)