کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 301
عذاب کو واجب نہیں کرتے کہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وعید جس کی طرف بظاہر لوٹ رہی ہو …سوائے اس کے کہ یہ وعید کفر کی متقاضی ہو اور مُشارالیہ آدمی پکا کافر ہو …ہو سکتا ہے اللہ عزوجل اس وعید شدہ آدمی کو اس کی بعض اطاعتوں یا اس کی توبہ یا اس پر آنے والے مصائب و امراض کی وجہ سے کہ جو گناہوں کو دور کرنے والے ہوں … اُسے بخش دے۔ (اور ہم خواہ مخواہ اُس پر جہنمی ہونے کا فتویٰ لگا تے پھریں۔) چنانچہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : ’’(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دے (اللہ عزوجل فرماتے ہیں :) میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی مہربانی اور اس کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ (شرک کے سوا) سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ‘‘ (الزمر:۵۳۔ آیت پیچھے گزر چکی ہے۔) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشیْ بِطَریقٍ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِیقِ فَأخَّرَہُ، فَشکَرَ اللّٰہُ لَہُ:فَغَفَرَ لَہ)) ’’ایک آدمی اس دوران کہ وہ کسی راستے پہ جا رہا تھا ، اس نے راستے میں ایک کانٹے دار ٹہنی دیکھی ، چنانچہ اس نے اسے راستہ سے دور ہٹا دیا۔ اللہ عزوجل نے اس کی قدر دانی فرمائی اور اس کو معاف کر دیا۔ ‘‘[1] اور اہل السنۃ والجماعۃ سلفی جماعت حقہ کے لوگ اس بات کا بھی پختہ عقیدہ رکھتے
[1] رواہ البخاری۔ کتاب المظالم ، حدیث: ۲۴۷۲/ کتاب الاذان حدیث : ۶۵۲ اس موضوع سے متعلق یہاں ایک اور زبردست واقعہ احادیث میں درج ہے ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص کسی راستے پہ جارہا تھا ۔ (دوسری روایت میں بنو اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت کا ذکرہے) اسے سخت پیاس لگی ۔ سرراہ اسے ایک کنواں نظر آیا ۔ وہ اس میں اترا اور اس نے پانی پیا۔ جب باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتاپیاس کے مارے پانی نہ ملنے کی وجہ سے سے کیچڑ چاٹ رہا ہے ۔ اس نے اپنے دل میں کہا: اس کتے کو بھی پیاس سے ویسی ہی تکلیف محسوس ہو رہی ہوگی جیسے مجھ پر گزر چکی ہے ۔ چنانچہ وہ پھر کنویں میں اُترا ، اور اپنے موزے میں پانی بھر کر اسے منہ سے پکڑ کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا ۔ اللہ کریم نے اس کے اس عمل کی قدردانی فرمائی اور اس کو بخش دیا۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا ہم کو جانوروں پر رحم کرنے میں بھی اجرو ثواب ملے گا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر تازہ (تر ) کلیجے والے پر ثواب ملے گا ۔ ‘‘(صحیح البخاری ، کتاب الادب ، باب رحمۃ الناس والبہائم، حدیث: ۶۰۰۸)