کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 299
عکاشہ بن محصن ، عبداللہ بن سلام ، آل یاسر ، بلال بن رباح ، جعفر بن ابوطالب ، عمرو بن ثابت ، زید بن حارثہ ، عبداللہ بن رواحہ ، فاطمۃ الزہراء بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ام المومنین سیّدہ خدیجہ بنت خویلد ، ام المومنین عائشہ بنت ابی بکر ، ام المومنین سیّدہ صفیہ ، ام المومنین سیّدہ حفصہ بنت عمر ، دیگر آپ کی ازواج مطہرات اور ان کے علاوہ بہت سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ اور جن لوگوں کے بارے میں صراحتاً نصوص وارد ہیں کہ وہ جہنمی ہیں ؛ ہم ان کے بارے میں اسی بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ اہل جہنم ہیں۔ ان میں سے ابو لہب عبدالعزی بن عبدالمطلب ، اس کی بیوی ام جمیل ارویٰ بنت حرب اور ان کے علاوہ وہ سب کفار و مشرکین کہ جن کے بارے میں ان کا جہنمی ہونا ثابت ہے۔ اور اہل السنۃ والجماعۃ کسی بھی معین شخص کے بارے میں نہ جنتی ہونے کا بالجزم اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی جہنمی ہونے کا۔ چاہے بظاہر اس کے اعمال جیسے ہی کیوں نہ ہوں ، اِلاّ یہ کہ جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالجزم اظہار فرما دیا ہو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہم نیکوکار، صالح آدمی کے لیے اللہ کے انعام واکرام اور بخشش کی امید کرتے ہیں اور گنہگار کے بارے میں خوف کا اظہار کرتے ہیں۔ [1] اہل السنۃ والجماعۃ کے اہل ایمان اس بات کا بھی عقیدہ و ایمان رکھتے ہیں کہ :بلاشبہ جنت کسی کے لیے بھی واجب نہ ہوگی اگرچہ اس کے اعمال بظاہر کتنے ہی اچھے
[1] اس لیے ہم کسی بھی شخص کے بارے میں کہ جو اللہ کے لیے قتل کر دیا جائے یا وہ طبعی طور پر فوت ہو جائے فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ شہید ہے ۔ اس لیے کہ نیت کا تعلق خالصتاً اللہ عزوجل کے ساتھ ہے ۔ صحیح طریق یہ ہے کہ کہا جائے : ہم اللہ عزوجل سے اس کے لیے شہادت کا سوال کرتے ہیں اور ہم اسے ان شاء اللہ شہید ہی گمان کرتے ہیں ۔ اور ہم اللہ کے ہاں کسی کی خود ستائی نہیں کر سکتے ۔ یعنی یہ کلمات دعائیہ الفاظ کے ساتھ ادا کیے جائیں نہ کہ پورے جزم کے ساتھ ۔ اس لیے کہ اس ضمن میں بالجزم کسی بات کا کہنا گویا اللہ عزوجل کے فیصلہ سے متعلق بغیر علم کے کوئی بات کہنا ہے جو قطعاً جائز نہیں ۔