کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 291
دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (الزمر:۶۵)
’’اور تیری طرف اور تجھ سے پہلے جو (پیغمبر) گزر گئے ان کی طرف (بھی) یہ حکم بھیجا جا چکا ہے کہ (ہر ایک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے کہہ دیا ہے) اگر تو نے (اللہ کے ساتھ) شرک کیا تو تیرا کیا کرایا(سب) اکارت ہوجائے گا اور تو گھاٹے میں پڑنے والوں سے ہوجائے گا۔‘‘
تیسرے مقام پر فرمایا:
﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا﴾ (النساء:۱۴۵)
’’بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں رہیں گے اور کوئی ان کا مدد گار (وہاں) تو نہ پائے گا۔ ‘‘[1]
ثانیاً… دوسرا کفر ، کفر اصغر کہلاتا ہے کہ جو آدمی کو ملت اسلامیہ سے باہر نہیں نکالتا۔ شارع علیہ السلام نے علی سبیل زجر و توبیخ اور تہدید کے اس کا اطلاق بعض گناہوں پر کیا ہے۔ اس لیے کہ یہ گناہ کفر کی عادات و خصائل میں سے شمار ہوتے ہیں۔ اور اس
[1] آخرت میں دار العذاب کے کئی درجے ہیں جن کا قرآن کی مختلف آیات میں ذکر ہو اہے ۔پہلا درجہ جہنم ، دوسرا لظیٰ ، تیسرا حطمہ ، چوتھا سعیر، پانچواں سقر، چھٹا جحیم اور ساتواں ہاویہ ہے۔ یہی ہاویہ جو سب سے نچلا درجہ ہے منافقین کا ٹھکانہ ہو گا۔ کھلے کافروں اور مشرکوں کو اس سے اوپر کے درجوں میں رکھا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تین گروہوں کو قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ہوگا۔ منافقین، اصحاب مائدہ میں سے جنہوں نے کفر کیا اور آل فرعون کو۔ منافقین کے متعلق تو یہی آیت ہے اور آل فرعون کے متعلق فرمایا: ﴿ادْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ﴾ اور اصحاب مائدہ کے متعلق فرمایا: ﴿فَاِنِّيْ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لاَّ اُعَذِّبُہُ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِیْنَ o﴾ (قرطبی)