کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 286
شک و شبہ کا ازالہ کر کے۔ اور اس معاملہ کا تعلق خفیہ اُمور سے ہے نہ کہ ظاہری اُمور سے۔ پھر وہ کسی معین آدمی کی تکفیر نہیں کرتے مگر یہ کہ جب اُس میں کفر والی تمام شروط متحقق ہو جائیں اور اس ضمن میں تمام موانع دُور ہو جائیں۔ [1]
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :میں نے خود سماعت کیا ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((کَانَ رَجُلَانِ فِیْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ مُتَوَاخِیَیْنِ ، فَکَانَ أَحَدُھُمَا یُذْنِبُ، وَالْآخَرُ مُجْتَھِدٌ فِی الْعِبَادَۃِ، فَکَانَ لَا یَزَالُ الْمُجْتَہِدُ یَرَی الْآخَرَ عَلَی الذَّنْبِ، فَیَقُوْلُ:أَقْصِرْ، فَوَجَدہُ یَوْمًا عَلَی ذَنْبٍ:فَقَالَ لَہُ :أَقْصِرْ، فَقَالَ :خَلِّنِیْ وَرَبِّیْ أَبُعِثْتَ عَلَیَّ رَقِیْبًا؟ فَقَالَ:وَاللّٰہِ ! لَا یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکَ۔ اَوْ لَا یُدْخِلُکَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ! فَقُبِضَ اَرْوَاحُھُمَا ، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، فَقَالَ لِہٰذَا الْمُجْتَہِدِ :أَکُنْتَ بِیْ عَالِمًا، أَوْکُنْتَ عَلَی مَا فِی یَدَیَّ قَادِرًا؟ وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ:إِذْہَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ بِرَحْمَتِیْ، وَقَالَ لِلْآخَرِ:اِذْہَبُوْا بِہِ اِلَی النَّارِ)) قَالَ اَبُوْہُرَیْرَۃَ :وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَتَکَلَّمَ بِکَلِمَۃٍ اَوْبَقَتْ دُنْیَاہُ وَ آخِرَتَہُ)) [2]
[1] ہمارے اسلاف رضی اللہ عنہم کا یہی اسلوب و منہج تھا۔ وہ لوگ اہل ایمان کو فوراً حلقۂ کفر میں داخل کرنے سے بہت بچتے تھے۔ چنانچہ امیر المؤمنین سیّدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے جب اہل نہروان کے بارے میں پوچھا گیا؛ کیا وہ کافر ہیں ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ لوگ کفر سے تو فرار ہوئے ہیں ۔ دریافت کیا گیا : کیا وہ منافق ہیں ؟ فرمایا: منافق لوگ تو اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں ، جب کہ یہ لوگ اللہ عزوجل کا ذکر صبح و شام کرتے ہیں ـ (اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں )نہیں بلکہ وہ ہمارے بھائی ہیں ۔ البتہ یہ ہے کہ اُنہوں نے ہمارے اُوپر سرکشی کی ہے۔‘‘ اخرجہ البیہقی فی السنن الکبریٰ ج: ۲، ص:۱۷۳۔
[2] صحیح سنن ابی داؤد للٔالبانی؍ کتاب الادب ؍ باب النہی عن البغی حدیث:۴۹۰۱۔