کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 278
نہیں ہے ، وہ جہنم سے (ضرور ایک دن) باہر نکل آئے گا۔ چاہے اس کے دل میں ایک جَو کے وزن کے برابر بھی ایمان ہوا تو۔ اور وہ آدمی بھی جہنم سے (ایک نہ ایک دن) باہر نکل آئے گا کہ جس نے (صدقِ دل سے) کہہ دیا کہ:اللہ کبریاء کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔ چاہے اس کے دل میں گیہوں (گندم) کے ایک دانے برابر بھی ایمان ہوا تو۔ اور اسی طرح وہ شخص بھی جہنم سے (ایک نہ ایک دن) باہر نکل آئے گا کہ جس نے (صد قِ دل سے) کہہ دیاکہ :اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔ چاہے اس کے دل میں ایک ذرّہ (صغیر ترین مقدار :Atom) بھر بھی ایمان ہوا تو۔‘‘ [1]
ایک دوسری حدیث میں ہے:سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَا یَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِّنْ إِیمَانٍ، وَّلَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ أَحَدٌ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ
[1] فاضل مصنف حفظہ اللہ یہاں اس حدیث مبارک کو نہیں لا سکے ، مگر جو مسئلہ یہاں اس حدیث کے استنباط سے بیان کیا وہ یہ ہے کہ : اہل السنۃ والجماعۃ سلف صالحین اس بات پر ایمان رکھتے کہ: اللہ رب العالمین کے ہاں ایمان کی مختلف مقداریں بھی ، مختلف لوگوں سے قبول کر لی جائیں گی۔ یعنی کوئی صدق دل کے ساتھ ایمان لا کر پوری زندگی شرک و خرافات اور بدعات سے بچتا رہا تو اس کا یہ ایمان اللہ کے ہاں قابل قبول ہو گا اگرچہ اس ایمان کی مقدار اس مسلمان کے دل میں ایک جَو کے دانے کے برابر بھی کیوں نہ ہو گی۔ اس طرح اس آدمی کا بھی ایمان رب العالمین کے ہاں قابل قبول ہو گا جو شرک و بدعات سے تائب رہا اگرچہ اس کے دل میں ایمان پہلے شخص سے بھی کم مقدار یعنی گندم کے دانے برابر بھی کیوں نہ ہوا۔ بعینہٖ اس آدمی کا ایمان بھی قبول کر لیا جائے گا جس کی موت شرک و بدعات پر نہ ہوئی اگرچہ اُس کے دل میں ایمان ان دونوں آدمیوں سے بھی کم اور نہایت ہی چھوٹی مقدار یعنی ذرّہ بھر بھی کیوں نہ ہوئی۔