کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 254
اور اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اطاعت کو پسند کرتے ہیں اور معصیت ونافرمانی کو ناپسند۔ اور یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جسے چاہتے ہیں اپنے خاص فضل سے صراط مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرما دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں اپنے عدل کے مطابق گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں۔ اللہ رب العالمین کا ارشاد گرامی قدر ہے :
﴿إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴾ (الزمر:۷)
’’اگر تم نا شکری کرو گے تو اللہ کو تمہاری کچھ پرواہ نہیں اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری، کفر کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو تم (اس کا شکر کرو) تو وہ اس کو تمہارے لیے پسند کرتا ہے اور (آخرت میں) کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ پھر تم (سب) کو اپنے رب کے پاس لوٹ جانا ہے۔ (وہاں) جو تم دنیا میں کرتے رہے (اس کا بدلہ دے کر) تم کو بتلا دے گا۔ بیشک وہ تو دلوں تک کی بات کو جانتا ہے۔ ‘‘[1]
[1] یعنی وہ اپنے بندوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس کا حکم دیتا ہے۔ بلکہ اس کی پسند یہی ہے کہ وہ شکر گزار ہوں اور اس کی بندگی کرتے ہوئے اپنی زندگی بسر کریں۔ اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ کتابیں نازل فرما کر اپنی پسند کو بیان کر دیا ہے۔ اس کے بعد جو شخض ناشکری کرے گا اسے اس کی ناشکری کی سزا ملے گی۔
جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے : ﴿اِِنَّا خَلَقْنَا الْاِِنسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنَاہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا o اِِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِِمَّا شَاکِرًا وَّاِِمَّا کَفُوْرًاo اِِنَّا اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَلاَسِلًا وَّاَغْلاَلًا وَّسَعِیْرًا o اِِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوْرًاo ﴾ (الدھر:۲ تا ۵)’’ہم نے آدمی کو (عورت مرد کے) ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا اس کو آزمانے کے لیے۔ اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا۔ ہم ہی نے اس کو سیدھا راستہ دکھلایا یا تو وہ شکر گذار رہے (مومن) یا ناشکرا (کافر)۔ ہم ہی نے کافروں کے لیے (آخرت میں ) زنجیریں ، طوق اور دہکتی آگ (یہ سب چیزیں تیار کر رکھی ہیں ۔ جو لوگ نیک ہیں وہ (آخرت میں ) ایسے شراب کا جام پئیں گے جس میں کافور ملا ہو گا۔ ‘‘
﴿قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا وَ مَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍo ﴾ (یونس: ۱۰۸)’’(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ دے: لوگو تمہارے پاس سچ آ چکا (یعنی قرآن یا دین اسلام یا پیغمبر) تمہارے رب کی طرف سے۔ پھر جو کوئی راہ پر لگ جائے (سیدھی راہ اختیار کرے) تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے راہ پر لگتا ہے۔ اور جو کوئی بھٹک جائے تو وہ بھٹک کر اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور میں تمہارا نگران، ذمہ دار نہیں ہوں ۔‘‘