کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 12
ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں وہ دولت بھی کھو بیٹھے آخر مسلماں یعنی آج کل کے مسلمان یہود و نصاریٰ اور ملحدین و مشرکین جیسے سارے کام کر کے بھی اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں۔ اور جیسا کہ شاعر نے اہل اسلام میں آج کل کی اصل مفسدات کو بیان کیا ہے ، کتاب ہذا کے مصنف نے اُن کا حل اس صورت میں پیش کیا ہے کہ قرونِ اولیٰ کے پاک طینت و پاک باز اہل ایمان کے اُن عقائد و اعمال اور طریق و منہج کابالاجمال مکمل بیان ہمارے سامنے آگیا ہے کہ جن کو اپنا کر وہ دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں اللہ رب العالمین کے محبوب اور پسندیدہ بندے بن گئے تھے۔ جائزہ اس بات کا لیناہے:کیا قرآنِ حکیم آج اپنی وہ افادیت کھو چکا ہے اور کیا دین حنیف کی وہ اصل رُوح اس سے نکال لی گئی ہے کہ جن کے ساتھ ہمارے اسلاف پوری دنیا میں غالب آگئے تھے؟ نہیں … ایسی قطعاً کوئی بات نہیں ہے۔ ا…سیّدنا عمیر بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یوں بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ :میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:’’میری اُمت میں ہمیشہ ایک بہت بڑی جماعت ایسی موجود رہے گی جو اللہ عزوجل کی شریعت پر قائم رہے گی انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اور وہ اسی حالت پر رہیں گے۔‘‘ [1] اس موضوع سے متعلق دیگر روایات میں سے کسی کے اندر ’’اُنَاسٌ‘‘ کا کلمہ آیا ہے۔کسی میں ’’طَائِفَۃٌ ‘‘ کا ، کسی میں ’’جَمَاعَۃٌ ‘‘ کا اور کسی میں ’’عِصَابَۃٌ ‘‘ کا۔ان احادیث کے مابین تطبیق سے مفہوم یہ بنتا ہے کہ تا قیامت ہر دور میں اس جماعت حقہ و
[1] صحیح البخاری،کتاب العلم، حدیث:۷۱ و کتاب المناقب، حدیث: ۳۶۴۱