کتاب: عقیدہ اہل سنت والجماعت(شرح عقیدہ واسطیہ) - صفحہ 86
٭ (مبتدا اور خبر دونوں کا معرفہ ہونا) اور ان دونوں کے درمیان ضمیر فعل کا لانا اختصاص کا فائدہ دیتا ہے کہ بندوں تک رزق کا پہنچانا صرف رب تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہی خاص ہے۔
مذکورہ آیت کی ایک اور قراء ت کا بیان:
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت ان الفاظ کے ساتھ پڑھائی: ((انّی ان الرزاق ذوالقوۃ المتین۔)) ’’بے شک میں ہی روزی دینے والا، زور آور اور مضبوط ہوں ۔‘‘ [1] (کہ اس قراء ت میں لفظ ’’اللہ‘‘ کی بجائے واحد متکلم کی ضمیر لائی گئی ہے اور اس کے بعد ضمیر فعل بھی اسی کے مطابق ’’انا‘‘ واحد متکلم کی لائی گئی ہے۔ اس قراء ت میں بھی اختصاص کی گزشتہ مذکور جملہ وجوہ موجود ہیں ۔ فقط واللہ اعلم۔ )
’’ذوالقوۃ‘‘ کی تشریح:
’’ذو‘‘[2] یہ صاحب کے معنی میں ہے، یعنی ’’قوت والا‘‘، اور یہ رب تعالیٰ کے اسم ’’القوی‘‘ کے معنی میں ہے۔ البتہ اس میں معنوی بلاغت زیادہ ہے (جس کا قدرے بیان حاشیہ میں کر دیا گیا ہے کہ ایک تو یہ ما قبل کی صفت بن کر آتا ہے، دوسرے یہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے جو عموماً اسم جنس ہوتا ہے اور اسم ظاہر ضمیر سے ابلغ ہے اور اسم جنس میں مفہوم کلی ملحوظ ہوتا ہے جو وسعت اور عموم و شمول پر دلالت کرتا ہے، تیسرے صفت کا معنی اختصاص پر دلالت کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔ )
پس یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ رب تعالیٰ کی (بندوں کو روزی پہنچانے کی) قوت (انہیں روزی پہنچاتے پہنچاتے) گھٹتی نہیں رہتی کہ جس سے رب تعالیٰ کمزور پڑ جائے اور ڈھیلا اور سست ہو جائے۔
[1] صحیح اخرجہ الترمذی القراء ت عن رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم باب ومن سورۃ الذاریات، حدیث رقم: ۲۹۴۰۔
[2] ’’ذو‘‘ یہ اسمائے ستہ مکبرہ میں سے ہے، یہ اسم متمکن اور معرب ہے، اس پر اعراب کی چوتھی قسم ’’اعراب بالحرف‘‘ آتے ہیں ، یعنی رفع واؤ کے ساتھ نصب الف کے ساتھ اور جر یا کے ساتھ۔ ’’ہدایۃ النحو، ص: ۱۲‘‘ یہ والا، صاحب اور مالک کے معنی میں آتا ہے، ہمیشہ مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے اور اس کی اضافت اسم ظاہر کی طرف ہوتی ہے جو عموماً اسم جنس ہوتا ہے اور ذو کے ذریعے اسم جنس کو صفت بنایا جاتا ہے جیسے ’’رَجُلٌ ذو مالٍ‘‘ کہ یہاں ’’ذو‘‘ مال اسم ظاہر کی طرف مضاف ہے جو اسم جنس ہے اور یہ ’’رجل‘‘ کی صفت ہے۔ یاد رہے کہ ذو اضافت کے بغیر استعمال نہیں ہوتا اور اس کے معرفہ یا نکرہ ہونے کا انحصار اس کے مضاف الیہ پر ہے۔ ’’القاموس الوحید، ص: ۵۷۹، بتصرفٍ وزیادۃٍ۔‘‘