کتاب: عقیدہ اہل سنت والجماعت(شرح عقیدہ واسطیہ) - صفحہ 85
شرح:…
سب کو روزی اللہ دیتا ہے:
یہ آیت رب تعالیٰ کے اسم ’’رزاق‘‘ (کے اثبات) کو متضمن ہے۔
لفظِ ’’رزاق‘‘ کی صرفی اور معنوی تحقیق:
لفظ ’’رزاق‘‘ یہ (فَعَّالٌ کے وزن پر) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس (میں مبالغہ) کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو (بلکہ تمام مخلوق کو) لگاتار کثرت اور وسعت کے ساتھ (نوع بنوع) رزق دیتا ہے۔ پس بندے کو رب تعالیٰ کی طرف سے جو منفعت بھی پہنچتی ہے وہ رزق ہے چاہے وہ مباح ہو یا غیر مباح۔ مطلب یہ ہے کہ اس نفع کو رب تعالیٰ نے بندوں (کی بقا) کے لیے ضروری خوراک اور گزر بسر کے لیے زندگی کا ضروری سامان بنایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَہَا طَلْعٌ نَضِیدٌo رِزْقًا لِّلْعِبَادِ﴾ (ق: ۱۰۔ ۱۱)
’’اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گابھا تہہ بہ تہہ ہوتا ہے (کہ یہ) بندوں کو روزی دینے کے لیے (کیا ہے)۔‘‘ اور فرمایا:
﴿وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ﴾ (الذاریات: ۲۲)
’’اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، آسمان میں ہے۔‘‘
رزقِ الٰہی کے کھانے میں احتیاط کیجئے!
(اگرچہ یہ سب کچھ رزق ہے) مگر اتنا ضرور ہے کہ جس کے لینے کی اجازت ہو وہ حکماً حلال ہے وگرنہ وہ شے حرام ہے، اگرچہ یہ سب کچھ رزق ہے۔
چند نحوی فوائد:
٭ ﴿اِِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ﴾ جملہ اسمیہ خبریہ ہے جس میں مبتداء اور خبر دونوں معرفہ ہیں ۔
٭ یہاں مبتداء اور خبر میں ’’ضمیر فعل‘‘[1] ’’ہو‘‘ لائی گئی ہے۔
[1] یہ مبتداء اور خبر کے درمیان میں لائی جانے والی ’’مرفوع منفصل‘‘ کی ضمیر کو کہتے ہیں جو واحد تثنیہ جمع اور تذکیر و تانیث میں مبتداء کے مطابق ہوتی ہے اور اسے اس وقت لایا جاتا ہے جب خبر بھی معرفہ ہو یا صیغہ اسم تفضیل ’’اَفْعَلُ‘‘ ہو جو ’’مِنْ‘‘ حرفِ جر کے ساتھ آیا ہو، اور اس کو ضمیر فعل اس لیے کہتے ہیں کیوں کہ مبتداء اور خبر کے درمیان فعل کر دیتی ہے۔ ’’ہدایۃ النحو، ص: ۷۵۱‘‘ اور اس کو جس معنوی مقصد کے لیے لایا جاتا ہے اس کو شارح نے خود متنِ کتاب میں بیان کر دیا ہے۔ فقط واللہ اعلم۔