کتاب: عقائد وبدعات - صفحہ 374
رحمت بن کر آئے اور محشر میں بھی اس کے لیے رحمت، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں اپنی امت سے بالمؤمنین رؤف و رحیم جیسا تعلق ہے اور والدین اور قریبی عزیزوں سے بڑھ کر انہیں ہر فرد امت سے یکساں ہمدردی ہے وہ اس روز بھی اپنا حق رأفت و رحمت ٹھیک ادا فرمائیں گے۔
سبحان اللہ، دنیا و آخرت میں وہ بندگان خدا کی خیر خواہی میں کس قدر مخلص اور سر گرم و مصرف ہیں ۔ پھر ان کی صفت رافت و رحمت اتنی کامل اور موثر ہوگی کہ آپ کو کسی معاون شفیع کی بھی ضرورت نہ ہوگی کہ امداد کے طور پر فرض شفاعت کو کامل طور پر سر انجام دینے کے لیے آپ کے ساتھ کوئی نبی، ولی اور پیر شریک ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ جنہیں چھوڑنا چاہے گا وہ آپ کی شفاعت کے ذریعہ چھوڑ دے گا۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت مقام اور شرف و عظمت کا اظہار بھی ہے تاکہ اس طرح گناہوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ میرے حبیب کی شان بھی بلند رہے، اسی مقام محمود کا دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا: ﴿عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا﴾ اور اخلاص شعار امت نے دنیا میں اسی مقام کے عطا کرنے کی دعائیں اور آرزووئیں کی تھیں ۔ ’’وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ‘‘ آج اس مقام پر آپ کا کوئی ہمسر نہیں ، چھوٹی شفاعتیں جتنی بھی ہوں گی۔ جیسے بچوں کی اپنے والدین کے حق میں یا عام مومنین کی دوسروں کے لیے تو ان میں شفیع کی عظمت اور رفعت کا کوئی مظاہرہ نہ ہوگا۔ آپ کی شفاعت کبریٰ تو ہر خاص و عام کو شامل ہوگی۔