کتاب: عقائد وبدعات - صفحہ 373
کیا ہے۔ تو کیسا، جو اس کی سب سے بڑی رحمت ہے، تاکہ خدائی جلال و ہیبت اور عین غیظ و غضب کے حال میں رحمۃ للعالمین سامنے آ جائیں ، اور ’’سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ غَضَبِیْ‘‘ کے قاعدہ کے مطابق ذات بے نیاز کے اقتضائے غضب پر تقاضائے رحمت غالب آ جائے، اور بے یارو مددگار مخلوق کا ایسے دور میں حساب و کتاب شروع ہو جائے۔
میدان محشر میں یہ ابتدا ہے اس رحیم کی خیر خواہی لطف و کرم اور انتہائی مہربانی کی اپنی کمزور و بے سہارا مخلوق کے حق میں حدیث میں آتا ہے کہ حضور اذن الٰہی سے مقام محمود پر پہنچ کر سجدہ میں گر جائیں گے۔ مختلف وقفوں سے چار بار سجدے میں رہیں گے، اور چار بار ہی آپ سے کہا جائے گا: ((اِرْفَع رأسَکَ وَقُلْ تَسْمَعُ وَسَلْ تُعْطَ وَاشَفَعْ تَشَفَّعْ۔))… کہیے آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیے دیا جائے گا۔ شفاعت کیجئے، قبول کی جائے گی۔ اس دور میں جن لوگوں کو جس وقت دوزخ سے نکالنا چاہے گا۔ انہیں بتدریج آپ کی شفاعت سے جہنم سے باہر نکالا جائے گا۔ گویا جو شخص بھی مغفرت و بخشش کا مستحق ہے، اس کے لیے حضور کی شفاعت ہو کے رہے گی، اور جو اس کا مستحق نہ ہوگا اس کے لیے آپ کو اجازت نہیں ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کی نظروں سے کوئی شخص یا کوئی جماعت مخفی نہیں رہ سکتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رہ جائے، مستحق مغفرت آپ کے فیض شفاعت سے مستفیض ہو کے رہیں گے، اب باقی رہا کون جس کے لیے کوئی اور اٹھ کر حق شفاعت ادا کرے اور کسی دوسرے کو اجازت کیونکر مل سکتی ہے۔ جبکہ شفاعت صرف معصوم کرے گی اور وہی کرے گا جو خود مغفور و معصوم ہو، کیونکہ غیر معصوم کو تو اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے۔ کیا مشائخ، احبار و رہبان اور پیر شفاعت کے لیے قدم اٹھا سکیں گے، جنہیں خود اپنی فلاح و نجات کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہوگا۔ بڑے بڑے صلحاء منقار زیر پر اور اپنے مستقبل کے بارے میں مشوش ہوں گے۔ بلکہ انبیاء بھی اپنی اپنی معذرتیں کر کے فرض شفاعت اور مخلوق کے حق خطابت سے گریز کریں گے۔ یہ منصب اور یہ شرف ومجد صرف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور رحمۃ للعالمین کے لیے مخصوص ہے۔ وہ دنیا میں بھی نوع انسان کے لیے