کتاب: عقائد وبدعات - صفحہ 371
دنیوی بادشاہوں سے جو شفاعت کی جاتی ہے وہ ان کی اجازت کے بغیر ہوتی ہے، اور اللہ کے ہاں کوئی بغیر اذن شفاعت کی جرأت نہیں کر سکتا۔ البتہ جسے وہ اجازت دے، بادشاہ لوگ سفارش قبول کر لے۔ پر کسی نہ کسی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں ۔ مثلاً شافع سے ان کی اغراض وابستہ ہوں اگر بات نہ مانی تو اغراض اٹک جائیں گی۔ یا شافع ان کا محسن ہوتا ہے جس کا بدلہ چکانے کے لیے کوئی اس کی بات مانی جائے۔ یا ان کی کسی خدمت و عمل پر خوش ہو کر بطور انعام ان کی کوئی بات قبول کی جائے، یا نقصان پہنچانے کے ڈر سے بات مانی جاتی ہے۔ مثلاً: بیوی، بیٹا، ملازم یا اور کوئی ماتحت انسان، اگر ان کی سفارش نہ مانی تو سرکش و بغاوت کا طوفان برپا کر دیں گے، یا کوئی اور فساد پیدا کر کے مملکت کے لیے خطرہ بن جائیں گے، مجبوراً ان کی بات بھی رد نہیں کی جا سکتی۔
لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ ان امور کے برعکس ہے، نہ خوف، نہ ڈر، نہ اغراض، نہ رشتہ، کوئی بھی ایسی طاقت نہیں جو اسے اپنے مرضی کے مطابق جھکا سکے، اور اس سے اپنی بات کسی خدمت کی بناء پر کسی غرض کی لالچ میں ، کسی ضرر یا تقابل کے خوف سے مجبوراً منوا سکے، کوئی شافع ان میں کسی حیثیت کا مالک نہیں ۔ اس کی بارگاہِ ذوالجلال میں کسی بڑے سے بڑے مقرب اور ذی منصب پیغمبر کی بھی دم مارنے کی مجال نہیں ، اور اس کی مرضی کے خلاف کچھ کہنے کی طاقت نہیں ۔
نصاریٰ کے ہاں تو شفاعت مغفرت اور نجات کے پروانے تقسیم کرنے کے لیے باقاعدہ ٹھیکے ہوتے تھے۔ انہیں کے قدم بہ قدم آج کل وسیلہ و شفاعت کے پردوں میں بخشش اور نجات دلانے پر معین اور غیر معین معاوضے پر وصول کیے جاتے ہیں ۔ اگر اس قسم کے مسائل قرآن و حدیث کی شعاعوں سے عوام کے ذہن میں اتارے جائیں تو یہ مذہبی ٹھیکہ دار بہت جلد دیوالیہ ہو سکتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میرے پاس ایک فرشتہ آیا، اس نے مجھے اختیار دیا کہ اگر میں چاہوں تو میری نصف امت جنت میں داخل ہو جائے، اور چاہوں تو امت کے لیے شفاعت اختیار کر لوں ۔ میں نے شفاعت کو پسند کر لیا ہے اور یہ ہر شخص کے