کتاب: عقائد وبدعات - صفحہ 367
کر بھیجا اور عرش رحمان پر بھی یہ کتبہ لٹکا ہوا ہے۔ ((اِنَّ رَحْمَتِیْ تَغْلِبُ غَضَبِیْ۔)) (بخاری و مسلم) ’’میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے۔‘‘ جب اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مہربان اور خیر خواہ ہے تو پھر بندے کے لیے کیا ضروری ہے کہ وہ دوسروں کے واسطے سے اسے رحیم و شفیق کے سامنے پیش ہو، یا ان کے طفیل دعائیں مانگے یا ان کا حقوق کا واسطہ دے کر اپنی طرف مائل کرے، جبکہ اللہ پر کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ قبولیت کے دو اہم سبب ہو سکتے ہیں : ۱۔ حد سے زیادہ رحم دلی۔ ۲۔ یا خوف خالق کائنات سے زیادہ مخلوق کے لیے کوئی رحیم اور مہربان نہیں ، اس لیے اس کے سامنے کسی وسیلہ کو پیش کر کے لطف و مہر میں اضافہ کی ضرورت نہیں ، اور اس کا کوئی مقابل یا ہمسر بھی نہیں جس سے ڈر کر وہ کسی کی بات ماننے پر مجبور ہو جائے، بندوں سے وہ دور نہیں اس کا علم ناقص نہیں کہ وہ اپنی مخلوق کے حالات سے کسی بھی وقت بے خبر ہو سکے، ہے کوئی اس کے علم و اقتدار میں اس کا کوئی شریک نہیں جسے وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ پر کوئی اثر ڈالا جا سکے۔ اگر وہ نہ مانے تو اس سے منوانا عقلی و نقلی لحاظ سے حاجت برآری و مشکل کشائی اور عفو و مغفرت کے لیے کسی کو درمیان میں وسیلہ لانے کی ضرورت نہیں ۔ ’’واللّٰہ المستعان‘‘