کتاب: اپنی تربیت آپ کریں - صفحہ 263
وافکار کی قیمت سمجھنے کے زیادہ قریب ہے۔[1]
یہ بات یاد رہے کہ ہر کام کی عمدگی اور کامیابی جاننے کے لیے کوشش وخطا کا اسلوب اور طریقہ آزمانا درست نہیں ہے۔ مثلاً احکام شرعیہ میں شراب کی حرمت یا سود کا لین دین وغیرہ کے احکام و مسائل، وہ تو خود اللہ حکیم وخبیر کے نازل کردہ ہیں۔ ایک سچا مومن بلا کسی تردد کے اپنے خالق کے ہر حکم کو بجا لاتا ہے اور ہر ممنوع کام سے دور رہتا ہے۔ ہاں کسی امر کو استحکام بخشنے کے لیے پیہم کوشش کر نا شرعاً محبوب ومرغوب عمل ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ اِذَا عَمِلَ أَحَدُکُمْ عَمَلًا أَنْ ینفنہ۔))[2]
’’اللہ تعالیٰ یہ پسند کرتا ہے کہ بندہ جب کوئی عمل کرے تو اسے بہتر ڈھنگ سے کرے۔‘‘
دوسری روایت میں ہے کہ:
((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ مِنَ الْعَامِلِ اِذَا عَمِلَ أَنْ یُحْسِنَ۔))[3]
’’اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ بندہ جب کوئی عمل کرے تو اچھی طرح کرے۔‘‘
نفس انسانی میں نقص کا غلبہ ہوتا ہے اس لیے اس کا کوئی بھی عمل ابتدائی مرحلہ میں ٹھوس اور محکم نہیں ہوسکتا، اس لیے اسے محکم بنانے کے لیے لگا تارکوشش کی ضرورت پڑتی ہے، ایک بلند پایہ انسان اوج کمال تک پہنچنے کے لیے اس وقت تک پیہم کوشش کرتا رہتا ہے جب تک کہ وہ اپنا مطلوب حاصل نہ کرلے اور اپنی مراد کو نہ پہنچ جائے، انسان کی ذات اپنے پختہ ارادے، بیدار مغزی اور آگاہی سے اپنے کام کے حسن ادا اور خواہشات کی تکمیل کے لیے حضارت و ثقافت، تہذیب وتمدن اور فعال اعمال و محرکات کا محور بن جاتی ہے۔
٭٭٭
[1] جوانب التربیۃ الاسلامیہ الاساسیہ، ص: ۳۵۳
[2] شعب الایمان بیہقی، صحیح الجامع الصغیر:۱۸۸۰، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ: ۱۱۱۳
[3] شعب الاسمان بیہقی، صحیح الجامع الصغیر: ۱۸۹۱