کتاب: اپنی تربیت آپ کریں - صفحہ 262
ہے) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اسی وقت ایک دوسرا شخص بھی مسجد میں داخل ہوا، اس نے نماز ادا کی، پھر آپ کے پاس آیا اور سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:
’’جاؤ پھر سے نماز ادا کرو، تم نے نماز ہی نہیں ادا کی ہے۔‘‘
وہ شخص واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز ادا کی، اس کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:
’’واپس جاؤ پھر سے نماز ادا کرو، تم نے نماز ہی نہیں ادا کی۔‘‘ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اسے دوبارہ نماز ادا کرنے کے لیے کہا)
اس کے بعداس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مجھے آپ نماز ادا کرنے کا طریقہ سکھلائیے، میں اس سے زیادہ بہتر طریقہ پر نماز ادا نہیں کرسکتا۔‘‘[1]
اس حدیث میں محل استشہادیہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کی غلطی پر جب متنبہ کیا تو انہوں نے اپنے تئیں غلطی کے اصلاح کی کوشش کی اوروہ ایسا کرسکتے تھے مگر عدم معلومات کی وجہ سے جب اصلاح کرنے سے عاجز رہ گئے تو سوال کیا۔
تربیت کا اسلوب دل میں بہت زیادہ جاگزیں ہونے والا اور بات کے قبول کرنے کا زیادہ داعی اور حافظہ میں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔[2]
اس اسلوب کی ضرورت کی تائید کرتے ہوئے یا لجن کہتے ہیں :
’’تجربہ کی تعریف یہ ہے کہ تربیت لینے والا بنیادی وافکار اور پیش آمدہ حقائق کی روشنی میں خود کو آزمائے، کیونکہ یہ انداز اس کے نفس میں زیادہ مؤثر اور حقائق
[1] صحیح البخاری: ۷۵۷، ۷۹۳، ۶۲۵۱، ۶۶۶۷، صحیح مسلم: ۳۹۷، فواد: ۸۸۵، دارالسلام
[2] عبدالرحمن الخلاوی، اصول التربیۃ الاسلامیۃ وأسالیبہا، ص: ۲۳۸، ط، دارالفکر، دمشق ۱۳۹۹ھـ