کتاب: اپنی تربیت آپ کریں - صفحہ 260
جدیدہ کے کچھ معمولی فوائد بھی ہیں۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ ٹیلی ویژن اور اسکرین پر جو صورتیں دیکھنے والے کے سامنے لگاتار آتی رہتی ہیں وہ تنقید کے ملکہ کے خلاف رکاوٹ کا پتھر بن کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ پھر وہ صورتیں شعوری طور سے اس کے باطنی عقل کے جانب پلٹ جاتی ہیں تا کہ وہ مسلمات وحقائق بن جائیں۔ جب کوئی شخص لگاتار اسی حالت میں رہتے ہوئے ہر پیش آنے والی تہذیب وثقافت اور عادات و حالا ت کو جذب کرتا رہتا ہے تو ایک دن ایسا آجاتا ہے کہ اس کی اپنی خواہش اور ذاتی واصلی شخصیت فنا ہو کر رہ جاتی ہے، اس طرح گویا یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ٹیلی ویژن اور اس جیسے آلات کا تعلیم و تربیت میں بہت محدود اثر ہے۔
مروان کجک کہتے ہیں :
’’تعلیم کی سب سے بہتر قسم مجلس تعلیم میں حاضری اور شرکت ہے۔ ٹیلی ویژن دیکھنا صرف اخذ وحصول پر مبنی ہے، اس میں باہم تعامل نہیں ہے۔ ٹیلی ویژن دیکھنا صرف توجہ مرکوز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے معلومات تو برقرار رہتی ہے لیکن اس کے بعد ہم باہم تعامل نہیں کرپاتے اور یہ بھی نہیں جان پاتے ہیں کہ کس چیز سے تعاون کریں۔ جس طرح آپ ٹیلی ویژن برابر دیکھتے ہیں تو گویا اپنے آپ کو عدم تفاعل کی ٹریننگ دے رہے ہیں اور آپ کے اندر منفی پہلو پروان چڑھ رہا ہے۔‘‘[1]
اتنا ہی نہیں بلکہ ٹیلی ویژن مختصر وقت میں اس عمارت کی بنیاد ڈھادیتا ہے جسے مربیان سالہا سال میں تیار کرتے ہیں، یعنی ٹیلی ویژن مدارس و مساجد اور خاندانی تربیت کی کارکردگی کے بر خلاف تربیت کی کارکردگی کو رواج دیتا ہے۔[2]
اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو کا نفس انسان پر کتنا اثر پڑتا ہے ان برے
[1] مروان کجک، الاسرۃ السلمۃ أمام الفید یوو التلفزیون، ص: ۹۵، ط، دار طیبہ، ریاض ۱۴۰۸ھـ
[2] طیبہ الحیی، بصمات علی ولدی، ص: ۳۵، ط، مکتبہ المنار الاسلامیہ، کویت ۱۴۰۹ھـ