کتاب: اپنی تربیت آپ کریں - صفحہ 257
لکھنا ہوتا ہے۔ حصول علم کے میری حرص کا یہ عالم ہے کہ۸۰سال کے پیٹے میں ہونے کے باوجود میں اپنے آپ کو بیس برس کی نوجوانی کی عمر سے زیادہ چاق وچوبند پاتا ہوں۔‘‘[1] حافظ ذہبی رحمہ اللہ امام ابو حاتم رازی کی سوانح میں ان کا اپنا بیان تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے ابو زرعہ رازی نے کہا: ’’میں نے طلب حدیث میں تم سے زیادہ حریص دیکھا ہی نہیں، تو میں نے ان سے کہا! میرا بیٹا عبدالرحمن مجھ سے بھی زیادہ حریص ہے، ان پر انہوں نے کہا: ’’من أشبہ أباہ فما ظلم‘‘ یعنی بیٹا اپنے باپ کی نقال کرے تو کوئی زیادتی نہیں، اور جب عبدالرحمان بن ابی حاتم سے اپنے والد سے احادیث کے سماع اور سوالات کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیا کہ وہ اپنا ہر لمحہ جو اپنے والد کے ساتھ گزارتے اس کا استعمال کرتے تھے۔ جب وہ کھانا کھاتے ہوتے تو ان کے سامنے پڑھتے رہتے، اور جب چلتے ہوتے تو اس وقت بھی پڑھتے رہتے، حتیٰ کہ جب بیت الخلاء جاتے تو بھی پڑھتے رہتے، اور جب گھر میں کوئی سامان تلاش کرنے کے لیے داخل ہوتے تو بھی پڑھتے رہتے۔ خالی وقت اس طرح پر کیا جاتا ہے۔ جو شخص وقت کی اہمیت نہیں سمجھتا وہ قیامت کے دن نقصان کا زبردست احساس کرے گا، اگر اس نے کوتاہی کی ہوگی تو اپنی کوتاہی پر نادم ہوگا، اور اگر لاپرواہی کی ہوگی تو وہ کہے گا کہ کاش! میں اچھا کیے ہوتا۔‘‘[2]
[1] ابن الجوزی، المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم: ۹، ۲۱۴، ط، دائرۃ المعارف العثمانیۃ، حیدر آباد، الہند ۱۳۵۹ھـ [2] سیر أعلام النبلاء: ۱۳، ۲۵۰، ۲۵۱