کتاب: اپنی تربیت آپ کریں - صفحہ 256
امام زہری کہتے ہیں بعض علما کہا کرتے تھے: ’’اپنے اشعار سناؤ کیونکہ کان سے لعاب آنے لگا ہے اور نفس ترش ہوچکا ہے۔‘‘ نیز ان کایہ قول بھی ہے: ’’دلوں کو وقفہ وقفہ سے بہلاتے رہو۔‘‘[1] کچھ مباح لہو لعب ایسے بھی ہیں جو بیک وقت عقل اور جسم دونوں کے نشونما کے لیے مفید ہیں جیسے تربیتی کھیل کود سے استفادہ کرنا، یا تربیتی نقطۂ نظر سے ورزشی کھیل کود کی رہنمائی کرنا، اور یہاں تربیت کے مختلف مراحل میں افراد کے فرق مراتب کے ساتھ کھیل کود کو ذاتی تربیت یا عاب تربیت کا وسیلہ بنانے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ضروری ہے کہ کھیل کود کو تربوی مقاصد کے حصول کے لیے تربوی نظام کے تحت منظم کیا جائے نہ کہ بے مقصد یا حقیر مقاصد میں وقت کے ضیاع کے لیے، بلکہ اسے خصوصاً تربیتی کیمپوں اور بامقصد سیاحتوں میں اخلاق فاضلہ اور اعلیٰ کردار کے حصول میں لگانا چاہیے۔[2] خالی اوقات پر کرنے اور مشغول رکھنے کے لیے کچھ دوسرے بہت سے وسائل و ذرائع بھی ہیں جو آدمی کے لیے خیر وخوبی اور فائدہ کا سبب ہوسکتے ہیں، مگر تفصیل کے ساتھ انہیں بیان کرنے کا موقع نہیں ہے۔ جب ہم علمائے سلف کے فارغ اوقات کو پر کرنے کے حالات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کی مصروفیات پر تعجب ہوتا ہے۔ امام ابن عقیل اپنا حال خود بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : ’’میں یہ حلال ہی نہیں سمجھتا کہ میں اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع کروں، یہاں تک کہ جب میری زبان مذاکرہ ومناظرہ سے رک جاتی ہے اور میری آنکھ کا مطالعہ سے تھک جاتی ہے تو میں لیٹ کر اپنے آرام وراحت کی حالت میں اپنی فکر کو کا م میں لاتا ہوں۔ پھر اٹھنے سے پہلے ہی میرے دل میں آجاتا ہے جو مجھے
[1] جامع بیان العلم وفضلہ:۱، ۱۰۵ [2] مقدادلحن، جوانب التربیۃ الاسلامیہ الاساسیۃ، ۳۲۵، ۳۲۸، ط، دارالریحانی ۱۴۰۶ء