کتاب: اپنی تربیت آپ کریں - صفحہ 217
شرم وحیا مانع نہیں ہوتی۔‘‘[1] عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو تفقہ فی الدین(دین کا علم) اہل علم سے سوال کرنے کے بعدہی حاصل ہوسکا ہے۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ میں ایک مسئلہ کو تیس تیس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کرتا تھا۔[2] اسی سوال کا نتیجہ تھا کہ وہ بہت اونچی شان اور اہمیت کے مالک ہوگئے تھے، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے علم کی وجہ سے ان کی تعظیم وتکریم کرتے، انہیں اپنے قریب رکھتے اور مشکل امور میں ان سے مشورہ لیتے تھے۔ علامہ ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ’’علم ڈھونڈھنے سے علم بڑھتا ہے، اور کرنے سے علم پختہ ہوتا ہے، لہٰذا جو تمہیں معلوم نہیں ہے اسے سیکھو، اور جو جانتے ہو اس پر عمل کرو۔‘‘[3] اورامیہ بن ابی الصلت کا شعر ہے: لا یذ ھبن بک التفریط منتظرا طول الأناۃ یطمح بک المجل فقد یزید السؤال المرء تجربۃ ویستریح الی الأخبار من یسل ولیس ذوالعلم بالتقوی کجا ھلھا ولا البصیر کا عمی مالہ بصر فاستخبر الناس عما أنت جاھلہ اذا عمیت فقد یجلو العمی الخبر[4]
[1] صحیح مسلم: ۷۵۰، دارالسلام: ۳۳۲، فؤاد [2] سیر اعلام النبلاء: ۳، ۳۴۴ [3] جامع بیان العلم وفضلہ: ۱، ۸۷، ۸۸ [4] دیوان امیہ بن ابی الصلت، ص: ۴۳۶، جمع وتحقیق عبدالحفیظ السطلی، ط: المکتبۃ التعاونیہ دمشق ۱۳۹۴ھـ