کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 96
کرلیا۔ ‘‘[1] ۴۔ کثرت کے ساتھ سورت اخلاص اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس؛سورت فاتحہ اور آیت الکرسی اورسورت بقرہ کی آخری دو آیتیں اور مشروع دعائیں پڑھ کر مریض پر دم کیا جائے ۔اور دم کرتے وقت تکلیف کی جگہ پر دائیاں ہاتھ پھیرا جائے۔ ۵۔ یہ دعائیں پڑھ کر روغن زیتون اور پانی پر دم کیا جائے۔ پانی مریض کو پلائیں بھی اور اس سے نہلائیں بھی ۔ اور تیل کو سالن کے طور پربھی استعمال کریں اور اس سے مالش بھی کریں ۔ دم کرنے کے لیے اگر آب زمزم یا بارش کا پانی مل جائے تو بہت اچھاہے۔ ۶۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آیت الکرسی؛ سورت فاتحہ، سورت بقرہ کی آخری آیتیں ؛ معوذتین، سورت اخلاص او ردوسری کچھ آیات کسی کاغذ پر لکھ کر اسے دھو لیا جائے اور پھر یہ پانی مریض کو پلادیا جائے۔ جیسا کہ اس سے پہلے جادو کے علاج میں گزر چکا ۔ ۷۔ خبردار! دم کرتے وقت نہ ہی نظر بد لگانے والے کا تصور کیا جائے، اور نہ ہی اگر دم کرنے والا کہے تو اس آدمی کا نام لیا جائے۔ ایسا کرنا شیطانی عمل ہے؛ جو کہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔[2] [1] الصحیحۃ(۱۰۴۸)۔صحیح الجامع(۵۶۶۲)۔ [2] کلام إمام ابن باز رحمہ اللہ ؛ فتاوی اللجنۃ الدائمۃ المجموعۃ الثانیۃ(۱؍۹۶)۔