کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 91
’’ جب کسی انسان کو اپنے کسی بھائی کے پاس کوئی چیز اچھی لگے تو اسے چاہیے کہ اس کے لیے خیرو برکت کی دعا کرے۔‘‘[1] ۳۔ جس انسان کی نظر لگنے کا خوف ہو؛ اس سے اچھائی اور محاسن کو چھپایا جائے: حضرت عثمانbنے ایک خوبصورت بچہ دیکھا تو اس کے گھروالوں سے کہا: ’’ اس کی ٹھوڑی پر کالا نشان لگادو تاکہ اسے نظر بد نہ لگے۔‘‘[2] حقیقت میں یہ خوبصورتی کو بدلنے کی ایک کوشش ہے جس میں خوبصورتی کو چھپایا جاتاہے۔ لیکن یہ اعتقاد رکھ کر کلک لگانا کہ : کلک نظر بد کو روک لے گا ؛تویہ شرکیہ اعتقاد ہے۔ایسا کرنا جائز نہیں ۔[3] ۴۔ کثرت کے ساتھ ؛ سورت اخلاص، سورت فلق اور سورت الناس؛ سورت فاتحہ اور آیت الکرسی پڑھنا۔ان سورتوں کے فضائل سے کوئی جاہل انسان بھی لاعلم نہیں ۔ انسان سے تکلیف کے خاتمہ اور حفاظت کے لیے یہ نسخہ کیمیا ہیں ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات اور نظر بدسے پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ معوذتین نازل ہوگئیں ۔جب معوذتین نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی چیزیں چھوڑ کر ان کواپنا معمول بنالیا۔‘‘[4] [1] أحمد(۴؍۴۴۷)۔ وصحیح ابن ماجۃ(۳۵۰۹)۔ [2] شرح السنۃ للبغوی(۱۳؍۱۱۶)۔ وزاد المعاد(۴؍۱۷۳)۔ [3] التمہید شرح کتاب التوحید للشیخ صالح الفوزان(۶۲۲)۔ [4] صحیح الترمذي(۲۰۵۸)۔