کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 84
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اسے شفاء حاصل کرنے کے لیے پیو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء دے گا او راگر اس کی پناہ میں آنے کے لیے پیو گئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں پناہ دے گا۔ اور اگرتم اپنی پیاس ختم کرنے کے لیے پیوگے اللہ تعالیٰ تمہاری پیاس ختم کردے گا۔‘‘[1] اس پانی کی فضیلت یہ بھی ہے کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب جب ملا تو اس میں برکت اور بڑھ گئی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم پر تشریف لائے؛ ہم نے آپ کے لیے ایک ڈول پانی کا نکالا، آپ نے اس سے پیاء اور پھر باقی میں اپنا لعاب ملایا؛ پھر ہم نے اسے کنوئیں میں ڈال دیا ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر مجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غالب آجائیں گے تو میں اپنے ہاتھ سے زمزم نکالتا ۔‘‘[2] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ مکہ مکرمہ میں مجھ پر ایک وقت ایسا آیا کہ میں بیمار ہوگیا ؛ نہ ہی دوائی ملتی نہ ہی طبیب۔پس میں اپنا علاج سورت فاتحہ سے کرتا تھا۔ میں آب زمزم لیتا ؛اور اس پر کئی بار سورت فاتحہ پڑھ کر پھونک دیتا اور پھر اسے پی لیتا ۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مکمل شفاء عطا کردی۔ پھر میں بہت سارے دردوں میں اسی پر اعتماد کرنے لگا ؛ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے پوری پوری اور مکمل [1] مستدرک الحاکم(۱؍۴۷۳)۔ الجامع الصغیر(۴؍۴۰۴)۔ [2] أخرجہ أحمد في المسند(۱؍۳۷۲)۔قال شاکر: إسنادہ صحیح۔