کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 78
۴۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں مکہ کے راستہ میں [لحیی الجمل کے مقام پر] سر کے وسط پچھنے لگوائے۔ ‘‘[1] پچھنے لگوانے کے اوقات اور ایام : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پچھنے لگوانا نہار منہ افضل اور بہترین ہے۔اس سے عقل اور قوت حفظ میں اضافہ ہوتا ہے۔حافظ کا حافظہ بڑھتا ہے۔جو کوئی پچھنے لگوانا چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ جمعرات کے دن اللہ کانام لے کر پچھنے لگوائے۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو پچھنے لگوانے سے گریز کرو۔پیر اور منگل کوپچھنے لگواؤ۔[2]اور بدھ کے دن پچھنے لگوانے سے بچ کر رہو۔یہ وہی دن ہے جس دن حضرت ایوب علیہ السلام پر آزمائش آئی تھی؛اور اسی دن جذام اور برص بدھ[3]ظاہر ہوتے ہیں ؛یعنی دن یا بدھ کی رات کو ہی ظاہر ہوتے ہیں ۔‘‘[4] [1] البخاری(۵۶۹۸)۔ [2] أبي داؤد(۳۸۶۰) [کبشہ بنت ابوبکرہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ ان کے والد نے اپنے گھر والوں کو منگل کے روزپچھنے لگوانے سے منع کیا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے تھے کہ منگل کا دن خونی دن ہے اور اس میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس میں خون نکلنے سے انسان تندرست نہیں ہوتا]۔ [3] جذام:..... وہ بیماری ہے جس میں جسم کالا ہوجاتا ہے ۔ اور یہ مرض اعضاء بدن کو پگھلانا شروع کر دیتی ہے بعض دفعہ اس بیماری کی وجہ سے بعض اعضاء گر بھی جاتے ہیں ۔ اس سے اعضاء کے مزاج و کیفیت میں بھی فرق واقع ہوتا ہے۔(القاموس المحیط ۲۷۲) برص:..... انسان کے مزاج؍طبیعت میں خرابی کی وجہ سے بدن پر سفید نشانات پر جاتے ہیں اس مرض کوبرص یا پھلبہری کہتے ہیں ۔(القاموس المحیط۱۲۱) [4] صحیح ابن ماجۃ(۳۴۸۷)۔والصحیحۃ(۷۶۶)۔