کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 77
۴۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایک سر میں تکلیف کی شکایت کرتا تو آپ فرماتے: ’’ جاؤ اور پچھنے لگواؤ۔ اور جب کوئی ٹانگ میں درد کی شکایت کرتا تو آپ فرماتے :’’ جاؤ اسے مہندی لگاؤ‘‘ [1] ۵۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ معراج کی رات میرا گزرجس ملائکہ پر بھی ہوا؛ اس نے مجھ سے یہی کہا: ’’ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی امت کو حکم دو کہ وہ پچھنے لگوایا کریں ۔‘‘[2] پچھنے لگوانے کے مقامات: ۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اگلے حصہ پر[مانگ میں ]،اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے تھے، اور فرمایا کرتے تھے: ’’جس نے ان مقامات سے خون نکلوا دیا، وہ کسی دوسری بیماری کے لیے کوئی علاج نہ بھی کرے تو اسے کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی۔‘‘[3] ۲۔ کبھی آپ گردن کی دونوں جانب اور کندھوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے۔[4] ۳۔ کبھی سر کی چوٹی پر پچھنے لگواتے۔[5]اسے ام مغیث کا نام دیتے تھے۔ [1] صحیح أبي داؤد(۳۸۵۸)۔ والصحیحۃ(۲۰۵۹)۔ [2] ابن ماجۃ(۳۴۷۹)۔ [3] صحیح أبي داؤد(۳۸۵۹)۔ [4] أبي داؤد(۳۸۶۰) ابن ماجۃ(۳۴۸۳)صحیح [5] الصحیحۃ(۷۵۳)۔صحیح الجامع(۴۹۲۸)۔