کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 49
جادو سے بچاؤ کی تدابیر مسلمان کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جادو[1]اور جادو گروں کے شر [میں واقع ہونے]سے بچ کر رہے[تاکہ نہ نظر لگے نہ جادوچلے]۔ اس لیے بذیل اُمور کا ہونا ضروری ہے: ۱۔ اللہ تعالیٰ کی توحید خالص کا وجود : توحید خالص اللہ تعالیٰ کی عظمت کے پختہ اعتقاد؛جوکہ اس کی عزت وقدر کا حق ادا کرنے اور عبادت میں اس کی توحید و یگانگت بجالانے سے آتی ہے۔یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ ان چیزوں میں کسی غیر کا کوئی حق نہیں ۔اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء وصفات کا بجا لانا ضروری ہے۔اگر انسان کے دل میں یہ چیزیں اچھی طرح راسخ ہوجائیں تو اسے کسی قسم کی جھاڑپھونک یا دم وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں رہتی چہ جائے کہ وہ شرور اور آفات [1] لغت میں : جوکہ مخفی ہو، اوراس کا سبب انتہائی لطیف ہو۔یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کے اعمال و اسباب انتہائی مخفی ہوتے ہیں ۔ اوراصطلاح میں : وہ جھاڑ پھونک؛ تعویذ و گنڈے ؛ منتر اور طلسمی عملیات جو اللہ کے حکم سے انسان کے دل پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اور اس سے مقصودجادو کیے گئے انسان کو تکلیف پہنچانا ہوتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’وہ کسی کو اللہ کے حکم کے بغیر تکلیف نہیں پہنچاسکتے۔‘‘ [البقرۃ ۱۰۲] المفید من کتاب التوحید لابن عثیمین رحمہ اللہ ص۳۱۳۔