کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 46
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ’’ جب تم سے نہانے کے لیے کہا جائے تو نہا لیا کرو۔ ‘‘[1] ۶۰۔ نظر بد کبھی بلا ارادہ بھی لگ سکتی ہے ؛ اس کی وجہ اس کی اولاد، بیوی، یا مال مویشی بھی ہوسکتے ہیں ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ جب انسان کو کوئی چیز بھلی لگے تواس کے لیے برکت کی دعا کرے اوریوں کہے: (( مَا شَآ ئَ اللّٰہُ، لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ)) اور انسان کو چاہیے کہ اپنے جسم کے کسی حصہ کو دھوکر یہ پانی اس چیز پر بہا دے۔[2] ۶۱۔ عوام الناس میں مشہور ہے کہ جس انسان کے متعلق پتہ چل جائے کہ اس کی نظر لگتی ہے ؛ اس پر چار تکبیر نماز جنازہ پڑھ لیتے ہیں خواہ اس پر وہ راضی ہو یا نہ ہو؛ یا پھر وہ سویا ہوا ہو،[اور اس پر یہ نماز پڑھ لیں ]اور پھر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے نظر کااثر ختم ہوجاتا ہے۔خواہ ماضی میں ہو یا مستقبل میں ۔لیکن اس پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے؛ اور نہ ہی میرا خیال ہے کہ اس سے کچھ فائدہ ہوتا ہوگا۔[3] [1] صحیح مسلم(۲۱۸۸)۔ [2] الفتاوی الذہبیۃ(۱۱۴)۔ [3] فتوی الشیخ ابن جبرین رحمہ اللہ، (۲۴ شعبان۱۴۱۸ھ) یہ بعض علماء کے تجربہ سے ثابت ہے ؛ مگر جس کی نظر بد لگتی ہو؛اس کے حق میں یہ بہت ہی نقصان دہ عمل ہے؛ اس سے موت تک واقع ہوسکتی ۔ لہٰذا ایسی حرکت کرکے کسی کے قتل کے ذمہ دار نہ بنیں ۔ [مترجم؛الدراوی ]