کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 43
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آسیب زدہ پر دم کیا تھا۔ ۴۷۔ ٹیپ ریکارڈ یا لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ یا ٹیلیفون کے ذریعہ دم کرنا؛ ایک جدیددور میں پیش آنے والا معاملہ ہے۔شرعاً ایسا کرنا جائز نہیں ۔دم تو براہ راست آمنے سامنے مریض پر کیا جاتا ہے۔یاتو اس پرقرآنی آیات پڑھ کر دم کیا جائے یا پھر دوسری دعائیں پڑھ کر پھونک ماری جائے۔[1] ۴۸۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جنات کی پٹائی لگاتے، ان کا گلا دباتے، اوران سے بات چیت بھی کرتے تاکہ جنات نکل جائیں ۔ لیکن آج کے اس دور میں جو کچھ مبالغہ دیکھنے اور سننے میں آرہا ہے ؛ اس کی کوئی دلیل نہیں ۔[2] ۴۹۔ کعبہ کے غسل سے بچاہوا پانی تبرک اور شفاء کی نیت سے استعمال کرنا جائزنہیں ۔ بلکہ کعبہ کے حق میں مشروع اسکی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا، اوراس کا طواف کرنا اور بغیر مبالغہ آمیزی اور بدعات ایجادکیے اس کا ہر طرح سے احترام کرنا ہے۔[3] ۵۰۔ شادی کے وقت میاں اور بیوی بد نظری، حسد اور جادو کے خوف سے پانی پر قرآن پڑھ کر دم کرتے ہیں، او رپھر اس پر کوئی خوشبو یا کافور وغیرہ بھی [1] رواہ أحمد(۵؍۱۲۸)۔ ہیثمی نے کہا ہے: اس حدیث کی سند میں ایک راوی ضعیف ہے۔ مجمع الزوائد للہیثمی(۵؍۱۱۸)۔فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ۱؍۱۹۲۔ [2] مجموع الفتاوی ومقالات متنوعۃ(۲۸؍۲۷۸)۔ [3] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ المجموعۃ الثانیۃ(۲؍۲۱۴)۔