کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 41
والی بات نہیں ۔ جس کسی کے پاس اس قسم کے برتن ہوں تو اس پر واجب ہے کہ ان آیات کو مٹا دے۔اور اگر ایسا نہ کرسکے تو پھر کسی پاک جگہ پر گڑھا کھود کر ان برتنوں کودفن کردے۔[1] ۴۲۔ پانی کی ٹنکی پر پڑھ کر دم کرنااورپھر اس سے پانی لوگوں میں تقسیم کرنا، ایک بے بنیاد عمل ہے۔مشروع طریقہ یہ کہ : یاتو مریض پر دم کیا جائے، یا پھر اتنے ہی پانی پر دم کیا جائے جو مریض کودیاجائے[یا اسے پلایا جائے]۔ [2] ۴۳۔ دم کرنے والے کی لعاب سے تبرک حاصل کرناحرام ہے؛اس کا شمار شرک کے وسائل میں سے ہوتاہے۔اس لیے کہ انسانی لعاب برکت اور شفاء کے لیے نہیں ۔ اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے لعاب سے تبرک حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ہاں قرآن پڑھ کر یا مشروع دعائیں پڑھ کر پھونک مارنے کے ساتھ لعاب کے قطرہ کے چلے جانے میں کوئی حرج والی بات نہیں ۔[3] ۴۴۔ دم شدہ پانی کا لوگوں پر بیچنا یہ بھی ایک بے بنیاد چیز[اورکاروباری دھندہ] ہے۔[4] [1] المجموع الثمین لفتاوی ابن عثیمین(۲؍۲۴۳)۔ [2] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ(۱؍۸۹)۔ [3] المصدر السابق(۱؍۷۵-۷۶)۔ [4] فتاوی نور علی الدرب(۱؍۳۱۵)۔