کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 38
میرے علم کے مطابق اس دعا کی کوئی دلیل نہیں [1]اور نہ ہی اس کا استعمال کرنا جائز ہے؛بلکہ اس سے بچ کر رہنا اور اس کا ترک کردینا واجب ہوتا ہے۔[2] ۳۴۔ بعض معالج خیال کرتے ہیں کہ جب کہ آسیب زدہ انسان پربے ہوشی کے عالم میں اس آیت کی تلاوت جنات کو حاضر کروانے کے لیے کی جائے تو جنات حاضر ہوجاتے ہیں ۔ وہ آیت یہ ہے : ڑ﴿وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا وَّلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ﴾ [الصافات: ۱۵۸] ’’اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے مابین رشتہ مقرر کیا ہے حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ(اللہ کے سامنے)حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ یہ تفسیر انتہائی کوتاہی پر مبنی ہے۔ علمائے امت اس آیت کی اس تفسیرکے خلاف ہیں ۔ جیسا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ اور دوسرے علماء نے لکھاہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ’’اس سے مراد یہ ہے کہ : انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ جنات یوم حساب میں عذاب دینے کے لیے حاضر کیے جائیں گے اس لیے وہ اس دن کو جھٹلاتے تھے۔اوراس کے متعلق اپنی طرف سے من گھڑت باتیں کیا کرتے تھے؛ اور بلاعلم کے فتوے ٹھونکاکرتے تھے۔[3] [1] الفتاوی الشرعیۃ في المسائل الطبیۃ للشیخ ابن جبرین رحمہ اللہ(ص۴۸)۔ [2] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ(۱؍۲۵۵-۲۶۶)۔ [3] تفسیر ابن کثیر(۴؍۲۴)۔