کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 34
۲۴۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی ’’دم کرنے والا ‘‘کسی ایسی عورت پر دم کرے جو بیوگی کی عدت گزار رہی ہو،یا جو حیض و نفاس کی حالت میں ہو، یا جو کوئی حالت جنابت میں ہو۔ اگر جنابت سے غسل کرلیا جائے تو یہ اس کے حق میں افضل ہے۔[1] ۲۵۔ ’’دم کرنے والے ‘‘کو چاہیے کہ وہ دم کرتے ہوئے جو آیات اور دعائیں پڑھ رہا ہے مریض کوسنا کر پڑھے؛ تاکہ وہ اس سے کچھ سیکھ بھی لے اور اس پر مریض کا دل بھی مطمئن ہو کہ یہ اصل میں شرعی دم ہی کیا جارہاہے۔ ۲۶۔ بعض معالج کی طرف سے کچھ سورتوں اور تسبیحات کو بطور خاص متعین کرناجنہیں دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد پڑھا جائے تاکہ سحرزدہ انسان کو خواب میں کچھ نظر آ جائے، یہ بدعت ہے؛ اس کی کوئی اصل نہیں ۔اورنہ ہی اس پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی دلیل موجود ہے۔[2] ۲۷۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ آیت الکرسی یا دوسری قرآنی آیات یا احادیث مبارکہ میں وارد شرعی دعائیں لکھ کر اپنے گلے میں لٹکائے۔تاکہ شیاطین سے حفاظت ممکن ہو یا پھر کسی بیماری سے شفاء حاصل کی جاسکے۔علماء کے ہاں صحیح ترین قول یہی ہے۔[3] [1] الفتاوی الذہبیۃ(ص ۳۴)۔الکنز الثمین لفتاوی ابن جبرین(۱؍۱۹۵)۔ [2] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ(۱؍۹۶)۔ [3] المنتقی من فتاوی الشیخ صالح الفوزان(۱؍۲۴۴)۔