کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 30
۹۔ جب کبھی دم کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو کوئی حرج والی بات نہیں ۔اس بنا پر انسان اُن ستر ہزار سے باہر نہیں ہوگار[1]؛ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ وہ ’’دم‘‘کروالیا کریں ۔ اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے یتیم بچوں کی ماں کوحکم دیاتھا کہ وہ انہیں دم کروایا کریں ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے۔ [2] ۱۰۔ ستر ہزار کے جنت میں داخل ہونے والی روایت میں یہ الفاظ ’’وہ جھاڑ پھونک نہیں کرتے‘‘ زیادہ ہیں جو کہ ضعیف اور شاذ ہیں ۔[3] ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حدیث میں یہ زیادہ الفاظ راوی کا وہم ہیں ۔[4] ۱۱۔ جو لوگ غیب جاننے کا دعوی کرتے ہیں ؛ ان کے پاس قمیص یا کوئی دیگر کپڑا بھیجنا جائز نہیں ۔اور ایسے ہی ان کی باتوں کی تصدیق کرنا بھی حرام ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت صحیح احادیث میں ایسا کرنے کی ممانعت آئی ہے۔[5] [1] مراد وہ ستر ہزار ہیں جو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے جیسا صحیح بخاری میں ہے(۲۲۰)۔ان لوگوں کی صفت یہ ہوگی کہ یہ صرف اللہ پر توکل کرنے والے ہوں گے۔ کسی سے جھاڑ پھونک نہیں کروائیں گے۔ [2] مجموع الفتاوی ومقالات متنوعۃ لابن باز رحمہ اللہ(۲۸؍۶۱)۔ [3] یہ بات علامہ ابن باز رحمہ اللہ نے کہی ہے؛ جوکہ کیسٹ میں موجود ہے۔ [4] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ المجوعۃ الثانیۃ(۱؍۸۳)۔ [5] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ المجوعۃ الثانیۃ(۱؍۶۱۷)۔