کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 27
((من أتی عرافاً فسألہ عن شئي لم تقبل صلاتہ أربعین [1]لیلۃً)) [2] ’’جو فال نکالنے والے کے پاس آیا اور اس سے کوئی چیز پوچھی، اس کی چالیس دن تک کی نماز قبول نہیں ہوگی۔‘‘ نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے : (( من أتی عرافاً أو کاھناً فصدقہ بما یقول، فقد کفر بما أنزل علی محمد)) [3] جو نجومی، کاہن اور فال گر کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، یقیناً اس نے[محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے جانے والے] قرآن کا کفر کیا ۔‘‘ ۵۔ مسلمان کے لیے کسی صورت میں بھی جائز نہیں کہ وہ جادو کو جادو کے ذریعہ سے ختم کرائے۔اس لیے کہ جادو شیاطین کی عبادت بجالائے بغیر؛اورغیراللہ سے مدد طلب کیے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔اس میں شیاطین کی عبادت کرکے ان کی قربت حاصل کی جاتی ہے۔ [4] ۶۔ کسی مسلمان کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ علاج کی معرفت حاصل [1] چالیس دن تک نماز قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ شرح کتاب التوحید للشیخ الفوزان(ص۲۱۳)۔ [2] صحیح مسلم(۲۲۳۰)۔ [3] صحیح ابن ماجۃ(۶۳۹)۔ [4] فتاوی نورٌ علی الدرب، لسماحۃ الشیخ ابن باز رحمہ اللّٰہ(۳؍۳۱۸)۔