کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 26
جائے کہ یہ جھاڑ پھونک بذات خود مؤثر نہیں، بلکہ اس کی تاثیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کردہ ہوتی ہے۔ ۲۔ ممنوع جھاڑ پھونک وہ ہے جس میں شرکیہ باتیں پائی جائیں ۔ جیسے غیر اللہ کو پکارنا، اس سے مدد طلب کرنا، جنات اور شیاطین سے مدد طلب کرنا ؛ یا مجہول قسم کے نام گننا [1]،یا پھر ایسے کلام سے دم کرنا جس کا معنی سمجھ میں نہ آتا ہو۔ [2] ۳۔ دم کرنے والے اور دم کیے جانے والے کی نیت خالص ہو۔ اور ان دونوں میں سے ہر ایک کااعتقاد ہو کہ شفاء اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوگی۔اور دم اور جھاڑ پھونک کرنا نفع بخش اسباب میں سے ایک سبب ہے۔اور شفاء اللہ کے حکم سے ہو گی۔ 4۔ مسلمان کے لیے کسی صورت میں بھی جائز نہیں کہ وہ جادو گروں اور کاہنوں کے پاس جائیں ؛ نہ ہی کسی چیز کے متعلق سوال کرنے کے لیے اور نہ ہی ان سے علاج کروانے کے لیے۔اور انسان پر واجب ہوتا ہے کہ ان کی باتوں کی تصدیق نہ کرے۔ اور نہ ہی ان کے پاس جائے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو گروں، کاہنوں، اور پشین گوئی کرنے والوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے ؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: [1] السحر والشعوذۃ و أثرہا علی الفرد والمجتمع لشیخنا العلامۃ صالح بن فوزان حفظہ اللّٰہ تعالیٰ(ص ۸۰ ـ ۹۲ـ۹۴) [2] اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ و الإفتاء(۱؍۲۶۱)۔