کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 24
تھوک دیتے۔ اس حدیث میں قرأت کے بعد پھونک مارنے کی دلیل ہے۔ نہم:.....پھونک مارنے کے بغیر دم: پھونک مارنے اور لعاب ڈالنے کے بغیر بھی دم کرنا جائز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت ہے۔کیونکہ جب آپ مریض کی عیادت کرتے تو یوں دعا کیا کرتے تھے: ((اللّٰہُمَّ رَبَّ النَّاسِ أَذْھِبَ الْبَأسَ اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَائََ اِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا )) [1] ’’ اے اللہ لوگوں کے رب! بیماری دور کرنے والے شفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے ایسی شفا عطا فرما جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے۔‘‘ ایسے ہی جبرائیل امین علیہ السلام نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کیا تو اس میں ثابت نہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے پھونک ماری ہو۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جبرائیل امین علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض گزار ہوئے : اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ تکلیف محسوس کررہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : [1] صحیح البخاري(۵۶۷۵)۔ صحیح مسلم(۲۱۹۱)۔