کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 22
سَقِیْمُنَا بِاِذْنِ رَبِّنَا)) [1] ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے، ہمارے ملک کی مٹی سے، ہمارے بعض کے تھوک سے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفا پائے۔‘‘ صحیح مسلم کی روایت میں ہے جب کسی آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی؛ پھوڑا پھنسی یا زخم ہو جاتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت کی انگلی زمین پر ایسے رکھ دیتے ؛ یہ کہہ کر سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنی انگشت شہادت زمین پر رکھ دی؛پھراسے اٹھاتے اور کہتے: (( بِسْمِ اللّٰہِ تُرْبَۃُ اَرْضِنَا بِرِیْقَۃِ بَعْضِنَا لِیُشْفٰی بِہٖ سَقِیْمُنَا بِاِذْنِ رَبِّنَا)) [2] ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے، ہمارے ملک کی مٹی سے، ہمارے بعض کے تھوک سے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفا پائے۔‘‘ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اس کا معنی یا ہے کہ : اپنا ہلکا سا لعاب اپنی انگلی پر لیتے، پھر اسے مٹی پر رکھتے، اور اس کے ساتھ کچھ تھوڑی سی مٹی ملا دیتے ۔ پھر اسے زخم یا بیماری کی جگہ پر لگادیتے۔اور زخم پر لگاتے ہوئے زبان سے مذکورہ بالا دعا پڑھا کرتے۔ واللہ اعلم [3] [1] بخاری(۵۷۴۲) ابو داؤد(۳۸۹۰) ترمذی(۹۷۳) [2] مسلم(۲۱۹۴)۔ بخاری( ۷۵۴۶) [3] مسلم( ۲۱۹۴)