کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 207
مشابہت رکھنے والا ظالم حاسد سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ ہمیشہ پریشان حال؛ غمگین،اور شکستہ دل رہتا ہے ۔‘‘[1] ۳۔ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر مکمل رضامندی۔ دنیا کی جو چیز انسان کونہ ملے اس پر افسوس نہیں کرنا چاہیے۔اس لیے کہ دنیا کی ہر چیز نے فنا ہونے ہے اور اس پر آخر کار زوال آنا ہے۔حاسد کویہ علم الیقین حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اس حسد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اعتراض کناں ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿اَہُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَۃَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَعِیْشَتَہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا وَرَحْمَۃُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴾ [الزخرف:۳۲] ’’کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں ؟ہم نے خود ان کے درمیان ان کی معیشت دنیا کی زندگی میں تقسیم کی اور ان میں سے بعض کو بعض پر درجوں میں بلند کیا، تاکہ ان کا بعض، بعض کو تابع بنالے اور تیرے رب کی رحمت ان چیزوں سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔‘‘ شاعر کہتا ہے : [1] أدب الدین و الدنیا(۱۷۶)۔