کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 206
حسد کا علاج ۱۔ حاسدکو یہ بات جان لینی چاہیے وہ اہل ایمان پر حسد کرکے اللہ کے دشمنوں کے ساتھ اتحاد و یگانگت کا ثبوت دے رہاہے۔اس لیے کہ اللہ کے دشمن اہل ایمان پر اس کی نعمتوں کے اثرات نہیں دیکھنا چاہتے ؛ تو حاسد ان کے ساتھ اس فکرو نظر میں شریک ہورہا ہے۔ ۲۔ حاسد کو یقین کرنا لینا چاہیے کہ جس پر وہ حسد کررہا ہے وہ اسے تو کوئی نقصان نہیں پہنچارہا؛ البتہ خود اپنے آپ کونقصان پہنچارہا ہے ؛ اس کے پاس نعمتیں دیکھ کر یہ بے چین، پریشان او رغمگین ہورہا ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’بری عادات میں سے حسد سے زیادہ کوئی بھی عادت بری نہیں ۔اور نہ ہی برائی میں اس کے برابر نہیں ۔حاسد جس پر حسد کررہا ہے، اس تک پہنچنے سے پہلے حسد اس حاسد کو قتل کردیتا ہے ۔‘‘[1] ٭ بعض حکماء نے کہا ہے: آپ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ کی خوشی کے وقت حاسد پریشانی اور غم کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور بعض اہل ادب [ادباء] نے کہا ہے:’’ ہم نے حسد کی وجہ سے مظلوم سے [1] أدب الدین و الدنیا(۱۷۶)۔