کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 199
کاروں کو دوست رکھتا ہے ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جو شخص بدلہ لینے کی قدرت وطاقت رکھنے کے باوجود غصہ کو پی جائے اور اس پر قابو حاصل کرلے توایسے شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بھرے مجمع میں بلاکر اختیار دیگا کہ وہ جس حور عین کو چاہے پسند کرلے۔‘‘[1] اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’غصہ نہ کرو، اس کے بدلے میں تمہارے لیے جنت ہے ۔‘‘[2] ۴۔ انسان کوچاہیے کہ اپنے نفس کو انتقام اور دشمنی کے انجام سے ڈرائے؛ اور دشمن کو پہنچنے والی تکلیف پر نہ ہی خوش ہو اورنہ ہی اسے گالی دے۔اس لیے کہ کوئی بھی انسان مصائب سے بچ نہیں سکتا۔اس چیز کوغصہ پر شہوت کے غلبہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اور اس میں انسان کو ثواب اس وقت ہی مل سکتا ہے جب وہ آخرت میں اجر کے کھو جانے کے خوف سے کوئی چیزترک کردے۔ ۵۔ انسان کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ جو کچھ پیش آیا، وہ اللہ تعالیٰ کی اس تقدیر کے مطابق تھا، جس کا فیصلہ بہت پہلے ہوچکا تھا۔اس کی مراد کے مطابق نہیں تھا ۔توپھر اسے اللہ تعالیٰ کی چاہت سے بڑھ کر اپنی چاہت کیسے محبوب ہوسکتی ہے؟ [1] صحیح ابي داؤد(۴۷۷۷)۔ وصحیح الترمذي(۲۰۲۱)۔ [2] وراہ الطبراني بإسنادین، أحدھما صحیح؛ وانظر: صحیح الترغیب والترہیب ۳؍۴۶۔ ورقم الحدیث(۲۷۴۹)۔ وانظر: صحیح الجامع(۷۳۷۴)۔