کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 189
خَلْقِکَ، اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ،وَنُوْرَ صَدْرِیْ وَجَلَآئَ حُزْنِیْ وَذَھَابَ ھَمِّیْ)) [1] ’’اے اللہ یقیناً میں آپ کا بندہ ہوں، اورآپ کے بندے اور آپ کی ہی کنیزکا بیٹا ہوں میری پیشانی آپ کے ہی ہاتھ میں ہے، نافذ ہے مجھ پر آپ ہی کا حکم انصاف پر مبنی ہے میرے بارے میں آپ کافیصلہ، میں آپ کے ہر اس خاص نام کے ذریعے سے آپ سے ہر اس نام کے ساتھ التجا کرتا ہوں جو آپ نے خود اپنا نام رکھا ہے ؛ یا پھر اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے؛ یا اپنی مخلوق میں سے کسی ایک کوسکھایا ہے؛ یاآپ نے اس کو علم غیب میں اپنے پاس(رکھنے کے لیے) خاص کیا ہے(میں درخواست کرتا ہوں ) کہ آپ قرآن مجید کومیرے دل کی بہاربنادیں، میرے سینے کا نور اور میرے غموں کا علاج اور میری پریشانیوں کا تریاق بنادیں ۔‘‘ [حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو شخص یہ دعا کرتا ہے]:اللہ تعالیٰ اس کے غم کو ختم کردیتے ہیں، اور تنگی وپریشانی کی جگہ وسعت آجاتی ہے۔‘‘ [1] أحمد(۱؍۴۲۵)۔(الصحیحۃ ۱۹۸)