کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 178
احکم الحاکمین ہے[سب سے بڑا دانش مند اور حکمت کے ساتھ حکم جاری کرنے والاہے]۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ اس مصیبت میں مبتلا کرنے سے اس کا مقصد انسان کے صبر و ایمان اور تقدیر الٰہی پر اس کی رضا مندی کا امتحان لیناہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندہ کی اپنی جناب میں گریہ و زاری او رنیازمندی کو دیکھے اورسنے۔کہ انسان اسی وحدہ لاشریک کی پناہ میں آتے ہوئے شکستہ دل کے ساتھ اس کے در پر پڑا ہے۔ نبی أکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ ارشاد فرمایاہے: ’’بیشک اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اسے آزمائش سے دو چار کرتے ہیں ۔‘‘[1] ۱۲۔ اور انسان کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اگر انسان کے دنیاوی امتحانات نہ ہوتے اور اس پر مصیبتیں نہ آتیں تو اسے تکبر، خودپسندی،فرعونیت، اور سخت دلی کے علاوہ ایسے امراض کا سامنا کرنا پڑتا جواسے جلدی یا بدیر ہلاک کرکے رکھ دیتے۔یہ اللہ ارحم الراحمین کی رحمت اور مہربانی ہے کہ وہ انسان کو بعض اوقات ایسے مصائب میں مبتلا کرتا ہے تاکہ یہ مصائب ان امراض سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں ۔ ۱۳۔ انسان کو یہ بھی ایمان رکھنا چاہیے کہ دنیا کی تلخی اور دکھ و تکلیف آخرت کی لذت اور حلاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ایسے ہی تبدیل کرتا ہے۔اور دنیا کی [1] البخاری(۵۶۴۵)۔