کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 176
پاس اس حالت میں آئے گا جیسے اسے پہلے بغیر کسی مال و اہل اور بغیر دوست و احباب کے پیدا کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے اعمال اس کے ساتھ ہوں گے۔ اگر اعمال اچھے ہیں تو اچھا ساتھی ہے؛ اور اگراعمال برے ہیں تو برا ساتھی۔ ۸۔ اورانسان کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ صبر وایمان اوراللہ تعالیٰ سے اجر کی امید پر انسان کو وہ کچھ ملنے والا ہے جو اس کھوجانے والے مال سے بہت زیادہ ہے، اگریہ مال باقی رہنے والا بھی ہوتاتو پھر بھی انسان کے لیے وہ بیت الحمد ہی کافی ہے جومصیبت پر صبر کرنے اوربوقت مصیبت ’’إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون ‘‘ کہنے کی وجہ سے جنت میں اس کے لیے بنایا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے:’’ جب کسی بندے کا بچہ فوت ہو جاتاہے تو اللہ عزوجل اپنے فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کرلی؟ تو فرشتے جواب دیتے ہیں [ہاں ]۔ پھر اللہ تعالیٰ بطور تاکیدفرشتوں سے سوال کرتے ہیں کیا تم نے میرے بندے کے جگر گوشے کی روح نکال لی؟تو فرشتے جواب دیتے ہیں [جی ہاں ]تو اللہ جل جلالہ ان سے پوچھتے ہیں کہ میرے بندے نے کیا کہا ؟فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس بندے نے اس حادثہ پر تیری حمد وثناء بیان کی اور [اناللّٰہ وانا الیہ راجعون] کہا، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ:اے فرشتو!میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیرکردو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو۔‘‘[1] [1] صححہ الترمذی،( ۱۰۲۱)۔