کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 172
’’کوئی حرج نہیں، [یہ بیماری گناہوں سے ]پاک کرنے والی ہے اگراللہ نے چاہا ۔‘‘ ۳۔ حضرت ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں بیمار تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’اے ام العلاء! تمہیں خوشخبری ہو؛ بیشک مسلمان کی بیماری اس کے گناہوں کوایسے ختم کردیتی ہے جیسے آگ سونا اورچاندی جلا کر ان کی میل کو ختم کردیتی ہے۔‘‘[1] مصیبت کا علاج : ۱۔ مصیبت پر صبر:.....اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ، الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ، اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ، ﴾ [البقرۃ ۱۵۵۔۱۵۷] ’’اوران صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجیے؛جنہیں مصیبت پہنچتی ہے توکہتے ہیں : بیشک ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔‘‘ بعض سلف صالحین کے ہاں جب مصیبت پر تعزیت کی گئی تو انہوں نے کہا : [1] صحیح أبوداؤد(۳۰۹۲)۔