کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 169
تُرْجَعُوْن﴾ [المؤمنون:۱۱۵] اور آپ نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا کہ : انہوں نے ایک بار ایک آسیب زدہ کے کان میں اس آیت کی تلاوت کی تو روح پکار اٹھی۔ہاں ؛[ہم نے اللہ کے پاس لوٹ کر جاناہے]۔اور اس نے اپنی آواز کوخوب لمبا کیا۔ [1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ جنات کا بنی آدم کے بدن میں داخل ہونا ائمہ اہل سنت والجماعت کے اجماع کی روشنی میں ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ﴾ [البقرۃ ۲۷۵] ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ(قبروں سے)اس طرح حواس باختہ اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنادیا ہو۔‘‘ صحیح حدیث میں ثابت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ شیطان بنی آدم میں ایسے چلتا ہے جیسے اس کی رگوں میں خون چلتا ہے ۔‘‘[2] حضرت امام عبداللہ بن احمدبن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے اپنے والد صاحب سے کہا: بیشک کچھ لوگ کہتے ہیں کہ : جن آسیب زدہ کے بدن میں داخل نہیں ہوتا۔‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’اے میرے بیٹے! یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، اور یہ جن ہی ان کی زبانوں پر بات کرتا ہے۔‘‘ [1] زاد المعاد لابن قیم(۴؍ ۶۶)۔ [2] تقدم تخریجہ۔