کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 161
جنات بھائیوں کی غذا ہے ۔‘‘[1] ٭ ایک دوسری روایت میں ہے:’’کوئی انسان ہڈی سے استنجاء نہ کرے اور نہ ہی گوبر یا پکی ہوئی مٹی سے استنجاء کرے ۔‘‘[2] ٭ اور ایسے ہی آپ نے منع فرمایا کہ :’’ کوئی بھی مینگنی یا ہڈی سے استنجا نہ کرے ‘‘[3] سوراخ میں پیشاب کرنے کی ممانعت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم میں سے کوئی ایک بھی کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے۔ ‘‘[4] حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : سوراخ میں پیشاب کرنے سے کیوں منع کیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا:’’اس لیے کہ وہ جنات کی رہائش گاہیں ہیں۔‘‘[5] گھر کے سانپ کو نوٹس دینے سے قبل نہ مارا جائے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِن بِالمدِینۃِ نفرا مِن الجِنِ قد أسلموا فمن رأی شیئا مِن ہذِہِ العوامِرِ فلیؤذِنہ ثلاثا فإن بداء لہ بعد؛ فلیقتلہ؛ فِإنہ شیطان)) [6] [1] صحیح الترمذی(۱۸) مسلم( ۲۶۲) [2] صحیح أبي داؤد(۲۹)۔ [3] صحیح الجامع(۵۸۲)۔ [4] بخاری(۳۳۷۱)۔ [5] سوراخ موذی چیزوں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں ۔جن سے ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ [6] مسند أحمد(۵؍۸۲)۔صحیح۔