کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 16
میں سے مریض کو پلایا بھی جائے اورباقی پانی اس کے جسم پر ڈال دیا جائے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ پر دم کیا تھا۔ [1] اگر دم کرنے کے لیے آب زمزم میسر آجائے تو یہ زیادہ اکمل ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کے متعلق فرمایا ہے: ((إنہا مبارکۃ، إنہا طعام طعم، و شفاء سقم، و’’ ماء زم زم لما شرب لہ ‘‘.....’’فإن شربتہ تستشفی بہ شفاک اللّٰہ‘‘)) ’’بیشک زمزم ایک مبارک پانی ہے۔‘‘ ’’یہ کھانے والے کے لیے کھانا ہے‘‘[2] اور ’’ بیماری کے لیے شفاء ہے ‘‘[3] اور’’ زمزم سے وہ مقصد پورا ہوتا ہے جس کے لیے اسے پیا جائے۔ ‘‘[4] ’’اگرتم زمزم پیتے ہوئے اپنی بیماری سے شفاء کے طلب گار ہوگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء دے گا۔ ‘‘[5] [1] سنن أبي داؤد(۳۸۸۵)؛ اس کی سند کو علامہ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے۔ دیکھیں : مجموعۃ فتاوی و مقالات متنوعۃ ۹؍۴۰۸؛ ۴۰۹۔ [2] صحیح مسلم(۲۴۷۳)۔ [3] صحیح الترغیب والترہیب للألباني(۱۱۶۱)۔ [4] صحیح ابن ماجۃ للألباني(۳۰۶۲)۔ [5] المستدرک للحاکم ؛ وقد صحح ہذہ الزیادۃ(۱؍۴۷۳)۔