کتاب: اپنے آپ پر دم کیسے کریں - صفحہ 157
تواس سے کہا جاتا ہے : ’’تجھے ہدایت دی گئی، تو کفایت کردیا گیا، اور تو بچالیا گیا، اور شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے۔ایک دوسرا شیطان اس پہلے شیطان سے کہتا ہے : ’’تمہارا بس اس انسان پر کیسے چل سکتا ہے جسے ہدایت دی گئی ہو، وہ کفایت کر لیا گیا ہو، اور اسے تیرے شر سے بچالیا گیا ہو ۔‘‘[1] حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے[2] اور یہ دعا پڑھتے : ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَضِلَّ اَوْ اُضَلَّ اَوْ اَزِلَّ اَوْ اُزَلَّ اَوْ اَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ اَوْ اَجْھَلَ اَوْ یُجْھَلَ عَلَيَّ)) ’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں(اس بات سے) کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کردیا جائے، میں پھسل جاؤں یا مجھے پھسلا دیا جائے، میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، میں کسی سے جہالت سے پیش آؤں یا میرے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے۔‘‘[3] [1] صحیح أبي داؤد(۵۰۹۵)۔[أخرجہ الترمذي و صححہ الألبانی في صحیح سنن الترمذي ۳۴۲۶] [2] علامہ البانی رحمہ اللہ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کے الفاظ کو شاذ قراردیا ہے۔ [الصحیحۃ: ۳۱۹۳] [3] (صحیح سنن ابي داؤد ۵۰۹۴)و(صحیح سنن ابن ماجۃ ۳۸۸۴)۔